برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق برطانیہ کے چانسلر ریوز مبینہ طور پر میئرز کو یہ اختیار دینے والے ہیں کہ وہ اپنے شہروں میں رات کے قیام پر سیاحوں سے ٹیکس وصول کر سکیں۔ مجوزہ سیاحتی ٹیکس سے سالانہ 240 ملین پاؤنڈ تک آمدنی حاصل ہونے کا امکان ہے۔

یہ پیش رفت 2024 کی تشخیصی رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا کہ لندن میں سالانہ نو کروڑ سیاح رات کا قیام کرتے ہیں اور فی الحال انگلینڈ واحد جی سیون کا رکن ملک ہے جہاں قومی حکومت مقامی حکام کو سیاحتی لیوی عائد کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

گریٹر لندن اتھارٹی نے حال ہی میں تھنک ٹینک سینٹر فار سٹیز کو یہ جانچنے کا ٹاسک دیا تھا کہ دارالحکومت میں مالیاتی بااختیاری کے کن شعبوں میں مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

 گزشتہ ہفتے جاری کی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پیرس، میونخ، میلان، ٹورنٹو، نیویارک اور ٹوکیو سمیت تمام بڑے جی سیون شہروں میں سیاحتی لیوی نافذ ہے۔

گریٹر لندن اتھارٹی کی 2017 کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ ایک  پاؤنڈ یومیہ لیوی سے تقریباً 91 ملین پاؤنڈ جب کہ پانچ فیصد لیوی سے 240 ملین پاؤنڈ سالانہ جمع ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب یوکے ہاسپیٹلیٹی کی چیف کیٹ نکولس نے اس فیصلے کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والے سیاح لندن کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ وہ یہاں کام، کاروباری کانفرنسوں، کنسرٹس، تھیٹروں اور عزیز و اقارب سے ملنے آتے ہیں۔ سیاحتی ٹیکس کا سب سے بڑا اثر محنت کش برطانوی خاندانوں پر پڑے گا جو یہاں مختصر دورے پر آتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انگلینڈ، ویلز اور اسکاٹ لینڈ میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس  پہلے ہی بیس فیصد ہے۔یہ ٹیکس پر ٹیکس ہوگا۔ گاہک پہلے ہی بھاری ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ اگر سیاحوں پر لندن آنے کا اضافی ٹیکس لگا دیا گیا، تو اس کا اثر ملازمتوں، ترقی اور سرمایہ کاری پر پڑے گا۔

تاہم ترجمان مئیر لندن  نے اس کے برعکس موقف اپناتے ہوئے کہا کہ میئر صادق خان واضح کر چکے ہیں کہ جی سیون ممالک کی طرح ایک معمولی سیاحتی لیوی لندن کی معیشت، ترقی اور شہر کی عالمی حیثیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ فیصلہ کرسمس سے قبل سامنے آیا ہے، جب ہر سال لاکھوں سیاح نئے سال کی تقریبات میں شریک ہونے کے لیے لندن کا رخ کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس ٹیکس سے میئرز کو ٹرانسپورٹ، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی خدمات میں سرمایہ کاری کے لیے کروڑوں پاؤنڈ اضافی حاصل ہو سکتے ہیں، تاہم اس سے مہمان نوازی کی صنعت پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے جو پہلے ہی ٹیکس میں اضافے اور ملازمتوں کے اخراجات سے متاثر ہے۔

مشہور تھنک ٹینک سینٹر فار سٹیز کے مطابق اگر لندن نے دیگر بڑے شہروں کی طرح سیاحتی لیوی اسی شرح پر نافذ کی تو شہر میں آنے والے زائرین کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔