عالمی خبررساں ادارے بی بی سی اردو کے مطابق پیٹر ٹاؤن سینڈ، جو دوسری عالمی جنگ کے ہیرو اور رائل ایئر فورس کے بہادر فائٹر پائلٹ تھے، نے 1978 میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں شہزادی کا فیصلہ بالکل درست تھا۔ تاہم بعد ازاں منظرِ عام پر آنے والی خفیہ سرکاری دستاویزات نے اس کہانی کے کئی پوشیدہ پہلوؤں کو آشکار کیا۔
دستاویزات کے مطابق شہزادی مارگریٹ کو اس قدر سخت انتخاب کا سامنا نہیں تھا جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ انہیں اجازت دی جا سکتی تھی کہ وہ اپنا شاہی لقب اور مراعات برقرار رکھیں، بشرطیکہ وہ تخت کی جانشینی سے دستبردار ہو جاتیں اور سول شادی کرتیں۔
شہزادی مارگریٹ اور پیٹر ٹاؤن سینڈ کی دوستی شاہی دربار میں خاموشی سے پروان چڑھی۔ جنگ کے بعد ٹاؤن سینڈ شاہی خاندان کے قریبی رکن بن گئے اور ان کی قربت شہزادی مارگریٹ سے وقت کے ساتھ بڑھتی گئی۔ مگر چونکہ ٹاؤن سینڈ شادی شدہ اور دو بچوں کے والد تھے، اس لیے ان کے تعلقات کو خفیہ رکھا گیا۔
جب 1953 میں ملکہ الزبتھ دوم کی تاجپوشی کے دوران ایک رپورٹر نے شہزادی کو ٹاؤن سینڈ کے لباس سے دھاگہ صاف کرتے دیکھا تو افواہوں نے زور پکڑ لیا۔ کچھ ہی عرصے بعد ٹاؤن سینڈ نے طلاق کے بعد شہزادی کو شادی کی پیشکش کی، لیکن شاہی پروٹوکول، رائل میرج ایکٹ اور چرچ آف انگلینڈ کے اصولوں نے اس محبت کو رکاوٹوں میں جکڑ دیا۔
وزیراعظم ونسٹن چرچل اور ملکہ کے نجی سیکریٹری سر ایلن لاسلز نے اس رشتے کی مخالفت کی اور ٹاؤن سینڈ کو برسلز میں تعینات کر دیا۔ دو سال کی جدائی کے باوجود دونوں کے درمیان خط و کتابت جاری رہی۔
جب شہزادی مارگریٹ 25 برس کی ہوئیں تو وہ قانونی طور پر آزاد تھیں، مگر اس آزادی کی قیمت بھاری تھی، تخت کی جانشینی، شاہی لقب اور مالی مراعات سب کچھ چھوڑنا پڑتا۔
31 اکتوبر 1955 کو شہزادی نے ایک مختصر بیان میں اعلان کیا کہ وہ چرچ کی تعلیمات اور اپنے فرائض کو ذاتی خواہش پر ترجیح دیتی ہیں۔ یوں برطانیہ کی سب سے مشہور شاہی محبت کا اختتام ہوا۔
پیٹر ٹاؤن سینڈ بعد میں بیلجیئم واپس چلے گئے، جہاں انہوں نے ایک 20 سالہ خاتون ماری لوس جیمین سے شادی کر لی۔ شہزادی مارگریٹ نے 1960 میں فوٹوگرافر انتھونی آرمسٹرانگ جونز سے شادی کی، تاہم 1978 میں وہ برطانوی شاہی خاندان کی پہلی شخصیت بنیں جنہوں نے طلاق لی۔
اگرچہ ان کی کہانی خوشگوار انجام تک نہ پہنچی، مگر پیٹر ٹاؤن سینڈ کے دل میں شہزادی مارگریٹ کے لیے احترام اور محبت ہمیشہ باقی رہی۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ اگر شہزادی آج ان کے سامنے آ جائیں تو کیا محسوس کریں گے؟ تو انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ مجھے انھیں دیکھ کر خوشی ہوتی اور میرا خیال ہے کہ وہ بھی مجھے دیکھ کر خوش ہوتیں۔







