نئے نرخوں کے مطابق یو اے ای میں سپر 98 پیٹرول کی قیمت 3.80 درہم فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 20 فلس فی لیٹر زیادہ ہے۔ اسپیشل 95 پیٹرول بھی 20 فلس مہنگا کردیا گیا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 3.69 درہم فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح ای پلس 91 پیٹرول کی قیمت بھی 20 فلس فی لیٹر بڑھا کر 3.61 درہم کردی گئی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں پیٹرول کے مقابلے میں زیادہ نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 4.30 درہم فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جو گزشتہ ماہ کے 3.80 درہم کے مقابلے میں 50 فلس زیادہ ہے۔
نئی قیمتوں کا اطلاق یکم ستمبر 2026 سے ہوگا۔ یو اے ای میں پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہانہ بنیادوں پر طے کیے جاتے ہیں۔
نئے نرخوں کے پاکستانی روپے میں حساب کے مطابق سپر 98 پیٹرول تقریباً 287 روپے، اسپیشل 95 تقریباً 279 روپے اور ای پلس 91 پیٹرول تقریباً 273 روپے فی لیٹر کا ہوگیا ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت تقریباً 325 پاکستانی روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ پاکستانی روپے میں قیمت کا یہ تخمینہ درہم کے مقابلے میں روپے کی شرحِ تبادلہ کے مطابق کم یا زیادہ ہوسکتا ہے۔
ستمبر کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے یو اے ای میں گاڑیوں کے استعمال اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔ شہریوں اور کاروباری اداروں کو نئی قیمتوں کے مطابق اپنے ماہانہ ایندھن کے اخراجات میں ایڈجسٹمنٹ کرنا ہوگی۔
دوسری جانب پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ رد و بدل کے بعد پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں معمولی کمی کردی گئی ہے، جبکہ لائٹ ڈیزل آئل اور مٹی کے تیل کے نرخ برقرار رکھے گئے ہیں۔
حالیہ قیمتوں کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 342 روپے 60 پیسے سے کم ہوکر 342 روپے 2 پیسے ہوگئی ہے، یعنی پیٹرول کی قیمت میں 58 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 371 روپے 61 پیسے سے کم ہوکر 371 روپے 44 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جس میں 17 پیسے فی لیٹر کمی ہوئی ہے۔
دوسری جانب لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 248 روپے 72 پیسے فی لیٹر جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت 291 روپے 45 پیسے فی لیٹر پر برقرار ہے۔
مزید پڑھیں: تاریخی تیل معاہدہ، وینزویلا کے 65 ارب بیرل تیل ذخائر پر امریکی کنٹرول ہوگا، صدر ٹرمپ
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر عوام کی روزمرہ زندگی اور کاروباری سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں معمولی تبدیلی بھی ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اشیائے خورونوش کی ترسیل اور مختلف کاروباری شعبوں کے اخراجات کو متاثر کرسکتی ہے، اسی لیے شہریوں اور کاروباری افراد کے لیے موجودہ ایندھن کی قیمتوں سے باخبر رہنا اہم سمجھا جاتا ہے۔
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخ، پاکستانی روپے اور امریکی ڈالر کی شرح تبادلہ، درآمدی لاگت، حکومتی ٹیکسز اور دیگر متعلقہ عوامل کی بنیاد پر تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے یا روپے کی قدر میں کمی کی صورت میں مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ بڑھ جاتا ہے، جبکہ عالمی قیمتوں میں کمی یا دیگر عوامل سازگار ہونے کی صورت میں مقامی نرخ کم بھی ہوسکتے ہیں۔
پاکستان میں پیٹرول سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ایندھن میں شامل ہے اور ملک بھر میں نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور مختلف دیگر ذرائع نقل و حمل میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور صنعتی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس کے باعث ڈیزل کی قیمت میں تبدیلی بھی معیشت کے مختلف شعبوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی سمیت متعلقہ حکومتی اداروں کا اہم کردار ہے۔ قیمتوں کا جائزہ مقررہ طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے اور عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی قیمتوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات میں پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، لائٹ ڈیزل آئل اور مٹی کا تیل شامل ہیں، جبکہ ایل پی جی اور سی این جی بھی مختلف شعبوں میں بطور ایندھن استعمال ہوتی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں مستقبل میں بھی عالمی خام تیل کی قیمتوں، شرح تبادلہ، حکومتی محصولات اور ملکی معاشی صورتحال کے باعث اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتوں پر نظر رکھنا نہ صرف عام صارفین بلکہ ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور دیگر کاروباری شعبوں کے لیے بھی اہم ہے۔







