امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) کی جانب سے جاری کی گئی نئی رپورٹ میں شین لونگ کی 2024 میں لی گئی ایک تصویر شامل ہے۔ یہ تصویر سیٹلائٹ امیجری کمپنی ’وینٹور‘ کے ’ورلڈ ویو 3‘ سیٹلائٹ نے تقریباً 90 کلومیٹر کے فاصلے سے لی تھی۔ تصویر کی ریزولوشن 4.5 سینٹی میٹر فی پکسل ہے، جس کے باعث شین لونگ کی ساخت اور اس کے ساتھ موجود دوسری خلائی شے کی واضح تفصیلات نظر آتی ہیں۔
تصویر میں روبوٹک خلائی طیارہ شین لونگ ایک دوسرے سیٹلائٹ کے ساتھ جڑا ہوا دکھائی دے رہا ہے، جس کے سولر پینلز کھلے ہوئے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ سیٹلائٹ کون سا تھا۔ تصویر میں شین لونگ کے پے لوڈ بے کے دروازے بھی کھلے ہوئے نظر آتے ہیں۔
خلائی طیارہ کیا ہے؟
خلائی طیارہ ایسے خلائی جہاز کو کہا جاتا ہے جو مدار میں کام کرنے کے بعد دوبارہ زمین کے ماحول میں داخل ہوکر واپس اتر سکتا ہے۔ چین کا شین لونگ بغیر عملے کے چلنے والا روبوٹک خلائی طیارہ سمجھا جاتا ہے اور اس کا ڈیزائن امریکی خلائی فورس کے X-37B خلائی طیارے سے ملتا جلتا ہے۔
امریکی رپورٹ کے مطابق شین لونگ کے مختلف مشنز کے دوران اسے دوسرے سیٹلائٹس کے قریب مشق کرتے، ان کے ساتھ ملتے اور بعض اشیا کو مدار میں چھوڑتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اس طرح کی سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ یہ خلائی طیارہ عام مصنوعی سیاروں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اپنی پوزیشن تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
شین لونگ کا موجودہ مشن فروری 2026 میں شروع ہوا تھا۔ چین نے اس کے مشن کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم کی ہیں اور صرف اتنا کہا ہے کہ یہ خلائی طیارہ ایسی ٹیکنالوجیز کی جانچ میں مدد دے رہا ہے جو مستقبل میں خلا کے پرامن استعمال کے لیے زیادہ آسان اور کم خرچ خلائی سفر ممکن بنائیں گی۔ تاہم امریکی اور دیگر خلائی ماہرین اس کی سرگرمیوں کو زیادہ قریب سے دیکھ رہے ہیں۔
جون 2026 میں امریکی خلائی انٹیلی جنس کمپنی ’لیو لیبز‘ نے شین لونگ کے قریب ایک نئی خلائی شے کا سراغ لگایا تھا۔ مزید مشاہدات اور تجزیے کے بعد کمپنی نے کہا تھا کہ اسے یقین ہے کہ یہ شے چینی خلائی طیارے سے ہی خارج کی گئی تھی۔ ماہرین کے مطابق شین لونگ اپنے گزشتہ مشنز میں بھی اس طرح کے ذیلی سیٹلائٹس یا دیگر اشیا خلا میں چھوڑ چکا ہے۔
شین لونگ کے 2023 کے دوسرے مشن کے دوران بھی ایک خلائی شے مدار میں چھوڑی گئی تھی، جبکہ 2024 میں ختم ہونے والے تیسرے مشن کے دوران بھی ایسی سرگرمی دیکھی گئی۔ ممکن ہے کہ یہ اشیا شین لونگ کی جانب سے غیر ضروری ہارڈ ویئر چھوڑنے کا حصہ ہوں، تاہم چینی حکام نے ان سرگرمیوں کی مکمل وضاحت نہیں کی۔
کیا شین لونگ خلائی ہتھیار لے کر جا رہا ہے؟
امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کی رپورٹ میں چین کی جانب سے خلا میں ڈائریکٹڈ انرجی ہتھیار تیار کرنے کے امکان پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ان ہتھیاروں میں لیزر یا انتہائی طاقتور مائیکرو ویوز استعمال کیے جاسکتے ہیں، جو دشمن کے سیٹلائٹس کے نظام میں خلل ڈالنے یا انہیں نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم رپورٹ میں ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ شین لونگ اس وقت کسی عملی یا فعال خلائی ہتھیار سے لیس ہے۔
ڈی آئی اے کے مطابق چین 2020 کی دہائی کے اختتام تک زیادہ طاقتور زمین پر نصب ڈائریکٹڈ انرجی نظام بھی تیار کرسکتا ہے، جو زمین کے نچلے مدار سے باہر موجود سیٹلائٹس کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
امریکی انٹیلی جنس کے مطابق چین کی پیپلز لبریشن آرمی سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو ممکنہ علاقائی تنازع میں غیر ملکی مداخلت روکنے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھتی ہے۔ چینی دفاعی ماہرین نے بھی ایسی صلاحیتوں پر بات کی ہے جن کے ذریعے جاسوسی، مواصلات، نیویگیشن اور قبل از وقت خبردار کرنے والے سیٹلائٹس کو نشانہ بنا کر دشمن کو ’اندھا اور بہرا‘ کیا جاسکے۔
اگرچہ امریکی رپورٹ نے 2030 کی دہائی کے آخر تک ایسی صلاحیت کے ممکنہ حصول کی بات کی ہے، لیکن ماہرین اس ٹائم لائن سے مکمل طور پر متفق نہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ چین اس سے پہلے بھی عملی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے، جبکہ دیگر ماہرین کے مطابق خلا میں لیزر ہتھیار تیار کرنا ابھی بھی کئی تکنیکی مشکلات کا شکار ہے۔
خلائی سلامتی کی ماہر وکٹوریہ سیمسن کا کہنا ہے کہ اگر چین 2020 کی دہائی کے اختتام تک خلا میں لیزر ہتھیار تیار کر لیتا ہے تو یہ حیران کن ہوگا۔ ان کے مطابق ایسے ہتھیاروں کے لیے بہت زیادہ وزن، بجلی اور درست نشانہ بنانے کی صلاحیت درکار ہوگی۔
تاہم اگر یہ مشکلات دور کرلی جائیں تو ایسے ہتھیار سیٹلائٹس کو نقصان پہنچائے بغیر بھی ان کے نظام میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر لیزر سیٹلائٹس کے آپٹیکل سینسرز کو متاثر کرسکتے ہیں، جس سے امریکی اور اتحادی سیٹلائٹس کے لیے کسی ممکنہ جنگی علاقے کی نگرانی مشکل ہوسکتی ہے۔
کچھ امریکی حکام اور ماہرین کا خیال ہے کہ چین کے پاس خلا میں پہلے ہی محدود نوعیت کے ڈائریکٹڈ انرجی یا جیمنگ نظام موجود ہوسکتے ہیں، تاہم ان صلاحیتوں کے مکمل طور پر فعال ہونے کے بارے میں عوامی سطح پر حتمی ثبوت موجود نہیں۔
امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق چین کے انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے سیٹلائٹس کی تعداد 2018 سے تین گنا بڑھ چکی ہے اور جولائی تک یہ تعداد تقریباً 510 ہو گئی تھی۔
ان سیٹلائٹس کا مقصد دنیا بھر میں نگرانی بہتر بنانا اور طویل فاصلے تک فوجی کارروائیوں کے لیے معلومات فراہم کرنا ہے۔ یہ نیٹ ورک امریکی اور اتحادی افواج کے فوجی اڈوں، بحری جہازوں اور دیگر اہم اہداف کی نگرانی اور انہیں نشانہ بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین کے زمین کے نچلے مدار میں موجود سیٹلائٹس کسی مخصوص مقام کی تقریباً 30 منٹ یا اس سے کم وقت میں تصویر لے سکتے ہیں، جبکہ جیو سنکرونس مدار میں موجود سیٹلائٹس زمین کے ایک ہی علاقے پر مسلسل نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کولمبیا یونیورسٹی کے محقق گیرٹ ہنک کے مطابق چین کی بڑھتی ہوئی سیٹلائٹ صلاحیت اس کی فوجی اڈوں، لاجسٹکس مراکز اور بحری جہازوں کی نگرانی کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتی ہے۔
چین کے جیو سنکرونس سینسرز، جن میں ’لودی ٹانس-4‘ اور ’یاوگان-41‘ شامل ہیں، ممکنہ اہداف کی نشاندہی میں مدد دے سکتے ہیں، جبکہ کم مدار میں موجود زیادہ ریزولوشن والے سیٹلائٹس مزید تفصیلی معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔
تاہم کسی ہدف کو دیکھ لینا اور اسے نشانہ بنا دینا دو مختلف چیزیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق 30 منٹ میں کسی مقام کی تصویر لینے کی صلاحیت مثالی حالات میں ممکن ہے، جبکہ بادل، جیمنگ اور دشمن کی جانب سے دھوکا دینے کی حکمت عملی نگرانی کو مشکل بنا سکتی ہے۔
گیرٹ ہنک کے مطابق کوئی بھی متحرک ہدف اس وقت تک اپنی جگہ تبدیل کرسکتا ہے جب تک نگرانی سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر حملے کا فیصلہ ہو اور میزائل لانچ کیا جائے۔ اس لیے حقیقی معنوں میں مسلسل نگرانی کے لیے کسی بھی وقت کوریج میں خلا نہیں ہونا چاہیے۔
چین خلا سے زمین تک معلومات کو ہتھیاروں سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے؟
ماہرین کے مطابق کچھ شواہد ایسے بھی ہیں کہ چین ایسے نیٹ ورک تیار کر رہا ہے جو سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والی معلومات کو مختلف فوجی نظاموں سے جوڑ سکتے ہیں۔ ایک چینی تجزیے میں اسے ’خلاء، فضا اور سمندر سے منسلک متحرک ہلاکت خیز نیٹ ورک‘ قرار دیا گیا ہے۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک چین نے ایسی مکمل عملی صلاحیت کا عوامی طور پر مظاہرہ نہیں کیا۔
امریکی انٹیلی جنس کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی کے خلائی پروگرام کا مقصد صرف دشمن کے سیٹلائٹس میں خلل ڈالنا نہیں بلکہ ’خلائی غلبہ‘ حاصل کرنا بھی ہے۔ اس سے مراد ایسی صلاحیت ہے جس کے ذریعے چین خلا سے حاصل ہونے والی معلومات پر کنٹرول قائم کرسکے اور اپنے مخالفین کو ان کی سیٹلائٹ پر مبنی معلومات اور مواصلاتی سہولتوں سے محروم کرسکے۔
امریکا بھی خفیہ خلائی طیارہ چلا رہا ہے
چین کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ امریکا بھی ایک خفیہ روبوٹک خلائی طیارہ ’X-37B‘ چلا رہا ہے، جسے بوئنگ نے تیار کیا ہے۔ امریکی حکومت بھی اس خلائی طیارے کی اصل صلاحیتوں اور مشنز کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم کرتی ہے۔
فروری 2025 میں امریکی اسپیس فورس نے پہلی مرتبہ خلا میں موجود X-37B کی تصویر جاری کی تھی، جس میں اس کے پے لوڈ بے کے دروازے کھلے ہوئے نظر آئے تھے۔ اس سے قبل 2023 میں امریکی اسپیس فورس نے ایک پینٹنگ جاری کی تھی جس میں X-37B جیسے خلائی طیارے کو مدار میں ایک دوسرے سیٹلائٹ کے قریب دکھایا گیا تھا۔
چین اور امریکا کے درمیان نئی خلائی دوڑ
چین اور امریکا کے درمیان خلا میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ماہرین اسے نئی خلائی دوڑ قرار دیتے ہیں، جس میں دونوں ممالک نہ صرف سیٹلائٹس اور خلائی طیاروں کی تعداد بڑھا رہے ہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجیز بھی تیار کر رہے ہیں جو ممکنہ جنگ کی صورت میں مخالف کی خلائی صلاحیت کو متاثر کرسکیں۔
امریکی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کی حالیہ رپورٹ میں چین کے خلائی ہتھیاروں اور ڈائریکٹڈ انرجی لیزرز کی تیاری پر تشویش ظاہر کی گئی ہے، تاہم اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ شین لونگ خود کسی ہتھیار سے لیس ہے۔
رپورٹ میں روس کی جانب سے بھی ایسے سیٹلائٹس تیار کرنے کی کوششوں پر خبردار کیا گیا ہے جنہیں جوہری ہتھیار لے جانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
یوں شین لونگ کی حالیہ تصاویر اور چین کی بڑھتی ہوئی خلائی نگرانی کی صلاحیت نے اس خدشے کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں خلا کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔ تاہم چین کے خفیہ خلائی طیارے کی اصل صلاحیتیں اور اس کے موجودہ مشن کا مکمل مقصد اب بھی واضح نہیں ہے۔







