مارکو روبیو نے الزام عائد کیا کہ آئی سی سی کے مذکورہ عہدیدار ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی کوششوں میں شامل ہیں جن کی حکومتوں نے عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کیا۔

امریکی وزیر خارجہ نے آئی سی سی کو ایک ’بدعنوان اور سیاست زدہ بالاتر قومی عدالت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اپنے اختیار کا غلط استعمال کیا اور اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ریاستی خودمختاری پر آئی سی سی کے حملے کو برداشت نہیں کرے گا۔

دوسری جانب آئی سی سی نے امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ججز، پراسیکیوٹرز اور عملے کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اس کے عہدیداروں کو نشانہ بنانے والے اقدامات قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانونی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل بھی آئی سی سی کے کم از کم 11 عہدیداروں پر پابندیاں عائد کرچکی ہے، جن میں 9 ججز اور عدالت کے چیف پراسیکیوٹر شامل ہیں۔ پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنے، سفری پابندیاں عائد کرنے اور امریکی کمپنیوں کی خدمات تک رسائی محدود کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

امریکا نے یہ اقدامات افغانستان میں امریکی اہلکاروں سے متعلق آئی سی سی کی تحقیقات اور غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سمیت اسرائیلی حکام کے خلاف جاری کیے گئے گرفتاری وارنٹس کے بعد کیے ہیں۔

بینجمن نیتن یاہو جنگی جرائم کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے آئی سی سی پر جانبداری اور سام دشمنی کا الزام عائد کرچکے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل دونوں آئی سی سی کے رکن نہیں ہیں، تاہم ریاست فلسطین 2015 میں عدالت کی رکن بن گئی تھی۔

آئی سی سی 2002 میں قائم ہوئی تھی اور اسے رکن ممالک میں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے مقدمات کی تحقیقات اور کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کسی معاملے کو عدالت کے حوالے کیے جانے کی صورت میں بھی آئی سی سی کارروائی کرسکتی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عدالت کے خلاف دباؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ ماہ مارکو روبیو نے آئی سی سی کے 125 رکن ممالک سے عدالت سے دستبردار ہونے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی امریکا کی جانب سے آئی سی سی کے خلاف اقدامات کی مخالفت کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت دیگر تنظیموں نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمات بھی دائر کیے ہیں اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکی پابندیاں عالمی سطح پر جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے متاثرین کے لیے انصاف کے حصول کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

آئی سی سی کے بعض ججز بھی امریکی پابندیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا مقصد ججز کو سزا دینا اور عدالتی کارروائیوں پر دباؤ ڈالنا ہے۔

مارکو روبیو اس سے قبل بھی آئی سی سی پر امریکا کے خلاف ’جنگ‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالت کو ختم کرنے کی مہم جاری رکھنے کا اعلان کرچکے ہیں۔