اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران کی پیش کردہ تجاویز جون میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک سے مماثلت رکھتی ہیں، نئے منصوبے کا مقصد موجودہ تعطل کو ختم کرکے جنگ کے خاتمے اور سفارتی مذاکرات کی جانب واپسی کا راستہ ہموار کرنا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق اگر امریکا مجوزہ اقدامات پر آمادہ ہوجاتا ہے تو ایران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اقدامات کرسکتا ہے اور اسی عمل کے ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کیے جاسکتے ہیں۔ ایرانی مؤقف کے مطابق مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام سمیت جنگ کے بنیادی معاملات کو جامع طور پر زیر بحث لایا جائے گا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے امریکا کو اپنی تجاویز براہ راست مذاکرات کے بجائے ثالث ممالک کے ذریعے پیش کی ہیں۔اگر فریقین کے درمیان ابتدائی اتفاق رائے پیدا ہوجاتا ہے تو سفارتی عمل کو مزید آگے بڑھانے کے لیے عملی اقدامات میں تاخیر نہیں کی جائے گی۔

ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کئی ماہ سے مختلف اختلافات اور شرائط کے باعث تعطل کا شکار رہے ہیں۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی فریم ورک کے تحت جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کی کوشش کی گئی تھی، تاہم مقررہ مدت میں وسیع تر معاہدہ نہ ہوسکا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ تجویز اسی سفارتی عمل کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے عملی آمادگی سامنے آنے کی صورت میں ایران بھی اپنے مجوزہ اقدامات پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔

آبنائے ہرمز اس تنازع میں ایک اہم معاملہ بن چکا ہے کیونکہ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے۔ اس راستے سے عالمی توانائی کی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے آبنائے کی بندش یا محدود آمدورفت سے عالمی تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوتے رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق پہلے طے پانے والے فریم ورک کا ایک اہم مقصد بھی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا تھا، تاہم اس معاملے پر اختلافات برقرار رہے۔

ایرانی تجویز میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کو وسیع تر سفارتی عمل سے جوڑا گیا ہے۔ تہران کے مطابق اگر مجوزہ شرائط پر پیش رفت ہوتی ہے تو ساتویں روز آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے ساتھ ساتھ جوہری پروگرام پر جامع مذاکرات کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔

عباس عراقچی کے بیان کے مطابق ایران کی تجویز میں صرف جنگ بندی یا بحری راستے کی بحالی شامل نہیں بلکہ جوہری پروگرام پر جامع مذاکرات بھی شامل ہیں۔ تہران طویل عرصے سے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا آیا ہے، جبکہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنی سلامتی کی تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔

ماضی میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاملے پر مذاکرات ہوئے ہیں، تاہم موجودہ تنازع کے باعث سفارتی عمل کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق جون میں طے پانے والے فریم ورک میں بھی جنگ کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام پر وسیع تر معاہدے کی کوشش شامل تھی، لیکن بعد میں مقررہ 60 روزہ مدت میں حتمی پیش رفت نہ ہوسکی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے موجودہ صورتحال میں سفارت کاری کو دوبارہ فعال کرنے کا اشارہ ایسے وقت میں دیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور اقتصادی دباؤ برقرار ہے۔ ان کی جانب سے سات روزہ منصوبے کی پیشکش کو امریکا کے ساتھ مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن تہران کی نئی تجویز پر کس حد تک آمادگی ظاہر کرے گا۔ امریکی اور ایرانی مؤقف میں جوہری پروگرام، پابندیوں، فوجی دباؤ اور آبنائے ہرمز کے انتظام سمیت کئی اہم معاملات پر اختلافات موجود رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے یہ تجویز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران سامنے آئی ہے، جہاں عالمی رہنماؤں کی بڑی تعداد نیویارک میں موجود ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق موجودہ موقع کو سفارتی رابطوں اور ثالثی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اگر امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ منصوبے پر اتفاق ہوجاتا ہے تو اس کے نتیجے میں جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت کی بحالی اور جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے ایک نیا سفارتی مرحلہ شروع ہوسکتا ہے۔ تاہم فی الحال یہ منصوبہ ایرانی پیشکش کی صورت میں موجود ہے اور اس پر حتمی اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔