سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ دوستوئیفسکی کے ناول کا ایک اقتباس موجودہ امریکی طرز حکمرانی اور ایران و خطے سے متعلق اس کی خارجہ پالیسی کی صورتحال کو درست طور پر بیان کرتا ہے۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ امریکا کا جھوٹ پر حد سے زیادہ انحصار اس کی ایران اور خطے سے متعلق خارجہ پالیسی کو متاثر کر رہا ہے۔

بقائی نے دوستوئیفسکی کے ناول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص خود سے جھوٹ بولتا ہے اور اپنے ہی جھوٹ پر یقین کرنے لگتا ہے، ایک وقت آتا ہے جب وہ اپنے اندر اور اپنے اردگرد موجود حقیقت کو جھوٹ سے الگ نہیں کرپاتا اور یوں اپنے اور دوسروں کے احترام سے محروم ہوجاتا ہے۔

ایرانی ترجمان نے اس اقتباس کو امریکی انتظامیہ کے ایران اور مشرق وسطیٰ سے متعلق طرزِ عمل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ جھوٹ پر ضرورت سے زیادہ انحصار حقیقت اور وہم میں فرق کرنے کی صلاحیت ختم کردیتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران امریکی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا۔

لازمی پڑھیں: بہت جلد میں آبنائے ہرمز کو امریکا کا علاقہ قرار دینے کا اعلان کروں گا : صدر ٹرمپ

غریب آبادی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلوں کا اختیار ایران کے پاس ہے اور اس آبی گزرگاہ کو کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ ایرانی کمان ہی کرے گی۔

ایرانی حکام کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایران، خطے کی سلامتی اور آبنائے ہرمز سمیت مختلف معاملات پر کشیدگی برقرار ہے۔