فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے بتایا کہ ایران کی جانب سے جوابی حملے دو رات قبل تک جاری رہے، تاہم گزشتہ دو راتوں کے دوران امریکا نے اپنے حملے روک دیے، جس کے بعد ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں۔
محمد اکرمینیا کا کہنا تھا کہ ایران کی حکمتِ عملی بنیادی طور پر جوابی کارروائی پر مبنی رہی ہے، اس لیے امریکی حملے رکنے کے بعد ایران نے بھی اپنے حملے روکنے کا فیصلہ کیا۔
NEW: Iran s Army Spokesman said Tehran has suspended its retaliatory strikes after the US paused its own bombing campaign for a second straight night, ending roughly 13 consecutive nights of American attacks.
— Clash Report (@clashreport) July 26, 2026
Iran warned any US resumption would widen the war geographically,… pic.twitter.com/ljdo6qNC5C
اے ایف پی کے مطابق یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے والی نئی فوجی کشیدگی کے بعد سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی مفادات کو نشانہ نہیں بنایا، جبکہ امریکا نے بھی مسلسل دوسری رات ایران پر کوئی حملہ نہیں کیا، حالانکہ اس سے قبل وہ روزانہ حملے کر رہا تھا۔
خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ جنگ بندی جیسے اس وقفے نے تقریباً دو ہفتوں تک جاری امریکی فضائی حملوں کے بعد سفارتی مذاکرات کی بحالی کی امیدیں دوبارہ پیدا کر دی ہیں، اگرچہ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ وقفہ دفاعی ہتھیاروں، خصوصاً پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر پر بڑھتے دباؤ کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے معاملے سے آگاہ دو ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی مہم کو مزید وسعت دینے کے منصوبے جزوی طور پر دفاعی میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کے باعث مؤخر کر دیے گئے ہیں۔






