عباس عراقچی کے مطابق جب تک واشنگٹن جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کرتا رہے گا، تہران براہِ راست مذاکرات شروع نہیں کرے گا، تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کی تمام شرائط تسلیم کیے جانے تک تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محیبی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری موجودہ حکمت عملی یہ ہے کہ دشمن کی جانب سے تمام شرائط تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اب ایران کے لیے محض ایک آبی گزرگاہ نہیں رہی بلکہ عملی طور پر میدانِ جنگ بن چکی ہے۔

یہ بیانات ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کی جانب سے واشنگٹن کے لیے شرائط عائد کیے جانے کے ایک روز بعد سامنے آئے ہیں۔ ذوالقدر نے کہا تھا کہ امریکہ اپنا رویہ درست کیے بغیر آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق محمد باقر ذوالقدر نے مطالبہ کیا کہ امریکہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ اور جارحیت ہمیشہ کے لیے ختم کرے۔

انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ امریکہ لبنان، فلسطین، یمن اور عراق میں ایران کے اتحادیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں ختم کرے، ایران کی بحری ناکہ بندی اٹھائے، ایران کے قرب و جوار سے اپنی بحری اور فضائی افواج واپس بلائے اور ایرانی عوام پر عائد غیر منصفانہ اور غیر قانونی پابندیاں ختم کرے۔