یہی منظر گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے دوران دیکھنے کو ملا، جب ایران اور کیوبا کے وفود نے امریکی صدر کی تقریر کے دوران جنرل اسمبلی ہال سے واک آؤٹ کیا۔ آج ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے خطاب کے دوران امریکی وفد کے موجود واحد نمائندے نے بھی نشست چھوڑی اور ہال سے باہر چلا گیا۔

پہلے ایران اور کیوبا نے واک آؤٹ کیوں کیا؟

22 ستمبر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کا دفاع کیا اور تہران کے جوہری پروگرام، خطے میں اس کے کردار اور جنگ کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا۔

جب ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کا ذکر شروع کیا تو ایرانی وفد کے بیشتر ارکان ہال سے باہر چلے گئے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی خود اس وقت ہال میں موجود نہیں تھے، جب کہ ایک نسبتاً نچلے درجے کا ایرانی سفارت کار تقریر کے دوران اپنی نشست پر موجود رہا۔

اسی تقریر کے دوران ٹرمپ نے کیوبا کی حکومت کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ناکام ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں آزادی آئے گی۔ اس پر کیوبا کا وفد بھی ہال سے واک آؤٹ کرگیا۔

یعنی دونوں ممالک کا پیغام بنیادی طور پر یہ تھا کہ وہ امریکی صدر کی جانب سے اپنے ملک کے خلاف پیش کیے گئے مؤقف کو سننے اور اسے معمول کے سفارتی ماحول میں قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔

آج امریکا نے بھی یہی کیا

23 ستمبر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے آئے۔ انہوں نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں، شہریوں کی شہادتوں اور دہشت گردی سے متعلق امریکی الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے اپنے دفاع کے لیے کارروائی کی اور خود بھی دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔

پزشکیان کے خطاب کے دوران جب انہوں نے امریکا کی جانب سے ایران پر عائد الزامات کا جواب دینا شروع کیا تو امریکی وفد کا موجود نمائندہ اپنی نشست سے اٹھا، بریف کیس اٹھایا، چشمہ اتارا اور جنرل اسمبلی ہال سے باہر چلا گیا۔

یوں ایک ہی اجلاس میں ایران اور امریکا نے ایک دوسرے کے صدر کے خطاب کے دوران واک آؤٹ کرکے سفارتی احتجاج ریکارڈ کرایا۔

واک آؤٹ سے کیا حاصل ہوتا ہے؟

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ واک آؤٹ کسی قرارداد کو روکنے یا کسی فیصلے کو منسوخ کرنے کا طریقہ نہیں۔ یہ زیادہ تر ایک سفارتی اور سیاسی علامت ہوتی ہے۔

کوئی ملک کسی تقریر کے دوران ہال سے باہر جاکر یہ دکھا سکتا ہے کہ وہ مقرر کے مؤقف کو ناقابلِ قبول سمجھتا ہے، اس سے خود کو اس بیان سے الگ کرتا ہے یا اس کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرا رہا ہے۔

دوسرا فائدہ پیغام رسانی کا ہوتا ہے۔ جنرل اسمبلی میں درجنوں ممالک کے نمائندے موجود ہوتے ہیں اور عالمی میڈیا کی نظریں بھی اجلاس پر ہوتی ہیں۔ ایسے میں کسی وفد کا اچانک کھڑا ہوکر باہر چلے جانا خود ایک خبر بن جاتا ہے۔

یوں جس ملک کے مؤقف پر اعتراض ہو، اس کے خطاب کے ساتھ ہی مخالف ملک اپنا ردعمل بھی عالمی میڈیا تک پہنچا دیتا ہے۔

تیسرا پہلو ملکی اور بین الاقوامی عوامی رائے کا ہے۔ حکومتیں واک آؤٹ کے ذریعے اپنے عوام اور اتحادیوں کو یہ پیغام دے سکتی ہیں کہ انہوں نے مخالف ملک کے مؤقف کو خاموشی سے قبول نہیں کیا۔

کیا اقوام متحدہ میں واک آؤٹ کی اجازت ہے؟

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے باقاعدہ قواعد میں تقاریر، مقرر کو صدرِ اجلاس کی اجازت، وقت کی پابندی، نظم و ضبط، اجلاس معطل کرنے اور دیگر پارلیمانی امور کے لیے تفصیلی قواعد موجود ہیں، لیکن کسی وفد کے احتجاجاً ہال سے باہر جانے کے لیے کوئی الگ رسمی طریقۂ کار یا سزا مقرر نہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی وفد اپنی سفارتی نشست چھوڑ سکتا ہے، لیکن اس واک آؤٹ کو اقوام متحدہ کی جانب سے کسی قرارداد یا باضابطہ فیصلے کے برابر نہیں سمجھا جاتا۔ دوسرے لفظوں میں واک آؤٹ سیاسی پیغام ہے ووٹ نہیں۔

کیا اس سے اقوام متحدہ کا اجلاس رک جاتا ہے؟

کسی وفد کے واک آؤٹ سے جنرل اسمبلی کی کارروائی خود بخود معطل نہیں ہوتی۔ جنرل اسمبلی کے قواعد کے مطابق اجلاس جاری رہ سکتا ہے اور مقرر اپنا خطاب مکمل کرسکتا ہے۔ اجلاس معطل یا ملتوی کرنے کے لیے الگ طریقۂ کار موجود ہے۔

اسی لیے گزشتہ روز ایرانی اور کیوبا کے وفود کے باہر جانے کے باوجود ٹرمپ کی تقریر جاری رہی، جب کہ آج امریکی نمائندے کے واک آؤٹ کے باوجود ایرانی صدر پزشکیان نے اپنا خطاب جاری رکھا۔

یہ ’واک آؤٹ گیم‘ کیوں اہم ہے؟

اصل اہمیت ہال سے باہر جانے میں نہیں بلکہ اس کے سیاسی مطلب میں ہے۔ ایک دن امریکا مخالف ممالک کے وفود امریکی صدر کی تقریر پر واک آؤٹ کرتے ہیں، اگلے دن امریکی نمائندہ ایرانی صدر کی تقریر کے دوران یہی قدم اٹھاتا ہے۔

یہ مناظر بتاتے ہیں کہ اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم صرف تقریروں کا مقام نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی پیغام رسانی، احتجاج اور سیاسی بیانیے کی جنگ کا میدان بھی بن چکا ہے۔

لیکن واک آؤٹ کے باوجود اصل سوال وہی رہتا ہے: کیا یہ احتجاج کسی مذاکرات، قرارداد یا پالیسی میں تبدیلی کا سبب بنتا ہے؟