مارک کارنی نے ہفتے کو اوٹاوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا 8 ستمبر سے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف نافذ کرے گا۔ ان محصولات کا دائرہ امریکی اسٹیل، ڈیری مصنوعات، برقی آلات، زرعی مشینری، پلپ، کاغذ اور الیکٹرانکس سمیت مختلف اشیا تک پھیلا ہوگا۔
کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ امریکا کی جانب سے حالیہ مذاکرات میں ایسی شرائط پیش کی گئیں جو کینیڈا کے لیے معاشی طور پر ناقابلِ قبول اور غیر منصفانہ تھیں۔ امریکا نے بہت زیادہ مطالبات کیے لیکن بدلے میں بہت کم پیشکش کی۔
واشنگٹن کی شرائط، اوٹاوا کا انکار
مذاکرات کے دوران امریکا کینیڈا کے اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں پر عائد ٹیرف میں کمی پر غور کر رہا تھا۔ امریکی حکام اسٹیل اور ایلومینیم پر 50 فیصد ڈیوٹی کم کرنے جب کہ کینیڈین گاڑیوں پر عائد 25 فیصد ٹیرف کو 15 فیصد تک لانے کی تجویز پر بھی بات کر رہے تھے۔
اس کے برعکس کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ آٹو موبائل سمیت اہم صنعتوں کے لیے امریکا کی جانب سے قابلِ قبول معاشی شرائط فراہم نہیں کی گئیں۔
کینیڈا نے مذاکرات کے دوران گزشتہ سال عائد کیے گئے اپنے بعض جوابی اقدامات واپس لینے اور امریکی شراب کی کینیڈین دکانوں میں دوبارہ فروخت کی اجازت دینے سمیت مختلف رعایتیں بھی پیش کیں، تاہم دونوں ممالک بنیادی تجارتی معاملات پر اتفاق نہ کرسکے۔
’کینیڈا کسی ملک کو اپنا مستقبل طے نہیں کرنے دے گا‘
مارک کارنی نے واضح کیا کہ کینیڈا اپنے کارکنوں، کسانوں، خاندانوں اور کاروباری اداروں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی ٹیرف کینیڈا کو نقصان پہنچانے اور تقسیم کرنے کے لیے عائد کیے گئے ہیں، تاہم یہ واشنگٹن کی غلط حکمتِ عملی ہے۔ کینیڈا اپنی معیشت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا کے دباؤ میں نہیں آئے گا۔
کینیڈین حکومت نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران کارکنوں اور کاروباری اداروں کی مدد کے لیے تقریباً 25 ارب ڈالر فراہم کیے ہیں جب کہ کارنی کا کہنا ہے کہ کینیڈا کی اقتصادی ترقی میں تیزی آرہی ہے۔
امریکا بھی جوابی کارروائی کی تیاری میں
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار کینیڈا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اوٹاوا نے پہلے طے پانے والے توازن سے پیچھے ہٹ کر نئی شرائط پیش کیں۔
گریر کے مطابق امریکا نے کینیڈا کو اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں اور لکڑی سمیت اہم شعبوں میں ٹیرف میں نمایاں کمی کی پیشکش کی تھی، تاہم کینیڈا نے معاہدہ حتمی شکل دینے سے انکار کردیا۔
بعد ازاں فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے گریر نے کہا کہ امریکا فی الحال کینیڈا کے ساتھ مزید مذاکرات کا منصوبہ نہیں رکھتا اور کینیڈا کی جوابی کارروائی کے جواب میں امریکی اقدامات کیے جائیں گے۔
تقریباً 20 ارب ڈالر کی کینیڈین برآمدات متاثر
امریکی اقدامات کے تحت تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات متاثر ہوں گی، جو امریکا کی جانب سے گزشتہ سال کینیڈا سے درآمد کی گئی مجموعی اشیا کا تقریباً 5 فیصد بنتی ہیں۔
متاثر ہونے والی مصنوعات میں اسٹیل، ڈیری مصنوعات، برقی آلات، زرعی مشینری، کاغذ، الیکٹرانکس، شراب اور دیگر صنعتی و صارفین کی اشیا شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اگرچہ یہ محصولات مجموعی طور پر امریکی صارفین پر فوری طور پر بہت بڑا اثر نہیں ڈالیں گے، لیکن اصل تشویش یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر وسیع تجارتی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ٹرمپ کے لیے پرانا قانون، نئی تجارتی طاقت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا پر ٹیرف عائد کرنے کے لیے 1930 کی دہائی کے ایک کم استعمال ہونے والے امریکی قانون کا سہارا لیا ہے۔
اسموٹ-ہاؤلی ٹیرف ایکٹ کے سیکشن 338 کے تحت امریکی حکومت ان ممالک کی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کرسکتی ہے جن کے بارے میں واشنگٹن سمجھتا ہے کہ وہ امریکی تجارت کے ساتھ امتیازی سلوک کررہے ہیں۔
اس قانون کے تحت عائد کیے جانے والے محصولات کے لیے واضح مدت مقرر نہ ہونے کے باعث یہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں، جب تک صدر انہیں واپس نہ لے یا عدالتیں اس اقدام کو روک نہ دیں۔
تجارتی جنگ کا دائرہ مزید بڑھنے کا خدشہ
فی الحال امریکا نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی توانائی، اہم معدنیات اور مچھلی سمیت بعض اہم مصنوعات کو نئے ٹیرف سے مستثنیٰ رکھا ہے، تاہم یہ صورتحال مستقبل میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے آزاد تجارتی معاہدے کا مستقبل بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یوں دنیا کے دو دیرینہ تجارتی شراکت داروں کے درمیان جاری تنازع اب صرف ٹیرف تک محدود نہیں رہا بلکہ شمالی امریکا کے مستقبل کے تجارتی نظام، صنعتوں اور لاکھوں کارکنوں کے معاشی مفادات کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جارہا ہے۔







