فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے چین سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کیے ہیں۔

چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے کہا کہ امریکی اقدامات چین کے جائز حقوق اور مفادات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، جس کے جواب میں بیجنگ نے ضروری اقدامات کیے ہیں، جن میں امریکہ کو ڈرونز اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی برآمد پر سخت پابندیاں بھی شامل ہیں۔

چین نے امریکی کمپنیوں کے خلاف دیگر اقدامات بھی کیے ہیں، جن میں چینی سرٹیفیکیشن اداروں کی فیکٹری انسپیکشن معطل کرنا، امریکی کمپلائنس ٹیسٹنگ کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنا اور دفتر میں استعمال ہونے والے پرنٹرز اور کاپی مشینوں کی درآمد کے حوالے سے قومی سلامتی کی تحقیقات شروع کرنا شامل ہے۔

بیجنگ نے جن چھ امریکی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا ہے، ان میں اپلائیڈ ڈی این اے سائنسز اور سٹراٹم ریزروائر بھی شامل ہیں۔ چینی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ کمپنیاں امریکہ کی غیر قانونی پابندیوں میں معاونت کر رہی تھیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائی ضروری تھی۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ ماضی میں سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے خلاف ممکنہ جرائمِ انسانیت پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے، تاہم چین ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔

چین کے نائب وزیرِ اعظم اور اعلیٰ تجارتی اہلکار ہی لیفینگ نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے حالیہ امریکی اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

گزشتہ ہفتے امریکہ نے بیرونِ ملک تیار کیے گئے انسان نما روبوٹس کی درآمد پر بھی پابندی عائد کی تھی، جس پر چین نے الزام لگایا تھا کہ واشنگٹن چینی کمپنیوں کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔

چین اور امریکہ گزشتہ سال طویل عرصے تک تجارتی کشیدگی کا شکار رہے تھے، تاہم اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد حالات میں بہتری آئی تھی۔ تازہ امریکی ٹیرف کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ نے چین، پاکستان، یورپی یونین اور دیگر تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی بعض اشیا پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کیے تھے۔ امریکی حکومت کا کہنا تھا کہ یہ اقدام جبری مشقت سے متعلق قوانین کے کمزور نفاذ کے باعث کیا گیا۔

امریکہ نے ایغور اقلیت سے متعلق خدشات کے تحت چین پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے ساتھ ساتھ 43 چینی کمپنیوں کو بھی "اینٹیٹی لسٹ" میں شامل کیا، جس پر چین نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ چینی اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق ان کمپنیوں میں کپاس اور ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستہ متعدد ادارے بھی شامل ہیں۔