امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا آنے کا سلسلہ جاری ہے اور ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اورسینیٹ میں مطلوبہ اکثریت حاصل کرلی ہے۔ 

اب تک کے نتائج کے مطابق ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے 224 اور ریپبلکن کے 129 ارکان کو برتری حاصل ہے، 435 رکنی ایوان نمائندگان کا کنٹرول سنبھالنے کیلئے کسی بھی جماعت کو 218 نشستوں پر کامیابی درکار تھی جو ڈیموکریٹس نے حاصل کرلی ۔

امریکی سینیٹ کے ابتدائی نتائج کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی 19 نشستوں پر برتری کے بعد تعداد 53 ہوگئی جب کہ ریپبلکنز کو 11 نشستوں پر برتری حاصل ہوئی جس کے بعد سینیٹ میں ریپبلکنز ارکان کی تعداد 42 ہوگئی۔

امریکی سینیٹ میں سادہ اکثریت کیلئے 100میں سے 51 نشستیں درکار ہیں۔ 

وسط مدتی انتخابات میں 3 خلابازوں نے خلا سے ووٹ کاسٹ کیا

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں 3 امریکی خلابازوں نے خلا سے ووٹ کاسٹ کیاAnil ، Luke اور Jessica نے ناسا کے خلائی اسٹیشن سے الیکٹرونک ووٹ ہیوسٹن خلائی مرکز کو بھیجا، کہا ووٹ کا حق خلا سے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

امریکی ریاست ورمونٹ میں مقامی وقت کے مطابق پولنگ کا آغاز صبح 5 بجے ہوا جبکہ دیگر ریاستوں نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، نیویارک اور ورجینیا میں پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے شروع ہوئی۔

امریکی مڈٹرم انتخابات میں مسلم امیدوار بھی میدان میں

امریکی مڈٹرم انتخابات میں مسلم امیدوار بھی میدان میں ہیں، کہیں سیاسی حریفوں سے براہِ راست مقابلہ تو کہیں کئی جماعتوں کے امیدوار آمنے سامنے ہیں۔

مشی گن سے فلسطینی نژاد امریکی رکنِ کانگریس رشیدہ طلیب ایک بار پھر انتخابی میدان میں ہیں جہاں ان کا مقابلہ 4 امیدواروں سے ہے،کیلیفورنیا میں عائشہ وہاب کا مقابلہ بھی اپنی ہی جماعت کی امیدوار میلیسا ہرنینڈز سے ہے۔

دوسری جانب عام انتخابات میں رشیدہ طلیب کے مدمقابل ری پبلکن جیمز ہوپر سمیت 3 دیگر جماعتوں کے امیدوار بھی میدان میں ہیں۔ امریکی سیاست میں مسلم امیدواروں کی بڑھتی موجودگی کے ساتھ یہ انتخابی مقابلے بھی خاص اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔

اب کیا ہوگا؟

ایوان کی نگران کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رابرٹ گارسیا ٹرمپ اور اس کے خاندان کے احتساب کی بات کررہے ہیں وہ اسے پہلی ترجیح قرار دیتے ہیں، جبکہ جیمی ریسکن نے جیرڈ کشنر اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے کاروباری معاملات کی معلومات مانگی ہیں۔

دوسرا سب سے اہم ایپسٹین فائلیں ہیں جو محکمہ انصاف نے قانونی مہلت کے بعد جاری کی ہیں مگر 60 لاکھ میں سے تقریباً 35 لاکھ صفحات ہی۔ بھاری ترامیم اور متاثرین کے ناموں کے افشا ہونے پر دونوں جماعتوں میں تشویش ہے۔

پینٹا گون میں جیسن کرو دفاعی رقوم کے ٹرمپ خاندان سے منسلک کمپنیوں کی طرف جانے کی رپورٹوں کی تحقیقات کی بات کررہے ہیں۔

اگرامریکی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیں تو نتیجہ واضح ہوجائے گا۔2018 میں، ٹرمپ کی پہلی مدت کے وسط میں، ڈیموکریٹس نے ایک ’نیلی لہر‘ کے ساتھ ایوانِ نمائندگان پر قبضہ کر لیا۔

ایوان کی کمیٹیوں نے فوری طور پر درجنوں تحقیقات شروع کر دیں، جن میں ٹرمپ کے کاروباری معاملات، روس سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں ان کا طرزِ عمل اور مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ شامل تھے۔

2018 کے وسط مدتی انتخابات کے ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے بعد، اور بائیں بازو کی جانب سے کئی مہینوں تک مواخذے کے مطالبات کے بعد، ایوان نے زیادہ تر پارٹی خطوط پر ووٹنگ کرتے ہوئے ٹرمپ کے مواخذے کی منظوری دے دی۔

ڈیموکریٹس نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ انہوں نے یوکرین پر دباؤ ڈالا کہ وہ جو بائیڈن کے بارے میں منفی خبریں گھڑے، تاکہ آئندہ صدارتی انتخاب میں انہیں فائدہ پہنچے، اور پھر کانگریس کی نگرانی کو روکا۔ بعد ازاں ریپبلکن اکثریت والی سینیٹ نے ٹرمپ کو مواخذے کے دونوں آرٹیکلز سے بری کر دیا۔

2021 میں ٹرمپ کا دوسری بار مواخذہ ہوا، اس بار 6 جنوری کو امریکی کیپیٹل پر حملے کو اکسانے کے الزام میں، اور اس بار بھی وہ بری ہو گئے۔

گزشتہ حالات کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے لیے کیا مشکلات انتظار کررہی ہیں۔