ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق محمد رضا عارف نے پیر کے روز کہا کہ ایران کے مخالفین گزشتہ دو جنگوں میں اپنے کسی بھی بنیادی ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب بھی مختلف حربے استعمال کر رہا ہے اور اپنے اہداف کے ساتھ ساتھ ملکی رائے عامہ کے تحفظات کو بھی مدنظر رکھے ہوئے ہے، تاہم ثالثوں کے ذریعے موصول ہونے والے پیغامات ایران کی کامیابی کو قبول کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ایرانی نائب صدر نے مزید کہا کہ ایران نے حالیہ بحران میں اپنے مؤقف اور مفادات کا کامیابی سے دفاع کیا، جب کہ مخالف فریق اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
دوسری جانب امریکی حکومت نے تاحال ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات یا پیغامات کے تبادلے کو تہران کی فتح کا اعتراف قرار نہیں دیا ہے۔
ادھر امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مبینہ طور پر محسن رضائی کو ارسال کیے گئے ایک پیغام میں زور دیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی مذاکراتی عمل میں ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ شامل ہونا چاہیے تاکہ نئے امریکی حملوں سے بچا جا سکے۔
اس کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی اہمیت پر زور دینے کے باوجود ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔







