ایک بیان میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت تقریباً 450 روپے بنتی ہے، بعض عناصر نے ایل پی جی کی فروخت میں ناجائز منافع خوری کی، تاہم حکومت عوام کو نسبتاً سستی گیس فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ ایل پی جی کی درآمد کو مسابقتی بنیادوں پر کھولا جا رہا ہے تاکہ مختلف کمپنیاں درآمدی گیس کی فراہمی میں حصہ لے سکیں، ایل پی جی فراہم کرنے والی تمام کمپنیوں کو اپنی ویب سائٹس پر قیمتیں ظاہر کرنا ہوں گی، جس سے صارفین کو نرخوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوں گی اور قیمتوں میں شفافیت لانے میں مدد ملے گی۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی فراہمی آکشن کے ذریعے کی جائے گی۔ حکومت کا مقصد درآمدی اور مقامی گیس کی فراہمی کے نظام میں مسابقت کو فروغ دینا اور قیمتوں کے تعین میں شفافیت یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستحق افراد کو ایل پی جی پر ریلیف دینے کے لیے بی آئی ایس پی کے ڈیٹا کو استعمال کیا جائے گا، تاکہ امداد ضرورت مند گھرانوں تک پہنچائی جاسکے۔ تاہم ریلیف کی رقم، طریقۂ کار اور اس کے آغاز سے متعلق مزید تفصیلات بیان میں نہیں بتائی گئیں۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ دسمبر اور جنوری کے دوران ملک میں گیس کی فراہمی برقرار رکھی جائے اور سردیوں میں صارفین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑنے دیا جائے، حکومت عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ ایل پی جی سے متعلق فیصلوں کی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔
حکومتی بیانات کے مطابق ایل پی جی کی قیمتوں میں شفافیت، درآمدی سپلائی میں مسابقت اور مستحق گھرانوں کو ریلیف فراہم کرنا ان اقدامات کے اہم مقاصد ہیں۔ تاہم ریلیف کے عملی نفاذ اور اہل افراد کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی اس پروگرام کے دائرہ کار کی مزید وضاحت ہوسکے گی۔







