ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر نمائندے منتخب کیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ 36 امریکی ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب بھی ہورہا ہے۔

امریکی ریاست ورمونٹ میں مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے پولنگ شروع ہوئی، جب کہ نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، نیویارک اور ورجینیا سمیت دیگر ریاستوں میں صبح 6 بجے ووٹنگ کا آغاز ہوا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ انتخابات اتنے اہم کیوں ہیں؟ ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو شکست ہوئی تو کیا وہ صدر رہیں گے؟ اور اگر کانگریس کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے پاس چلا گیا تو امریکی حکومت کیسے چلے گی؟

مڈٹرم انتخابات میں اب تک کیا صورتِ حال ہے؟

امریکا میں صدر کا انتخاب ہر چار سال بعد ہوتا ہے، جب کہ مڈٹرم انتخابات اسی صدارتی مدت کے درمیان یعنی دو سال بعد منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس وقت امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن پارٹی کی 218 اور ڈیموکریٹس کی 214 نشستیں ہیں، جب کہ دو نشستیں خالی ہیں۔

دوسری جانب سینیٹ میں ریپبلکنز کو 53 اور ڈیموکریٹس کو 45 نشستیں حاصل ہیں، جب کہ دو آزاد ارکان بھی موجود ہیں جو ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹ کرتے ہیں۔ یعنی اس وقت دونوں ایوانوں میں ریپبلکن پارٹی کو برتری حاصل ہے۔

انتخابی جائزوں اور سرویز کے مطابق ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں، جب کہ سینیٹ میں مقابلہ سخت ہے۔

ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو کم از کم چار نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے۔ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے بھی انہیں چار نشستوں کا خالص فائدہ اٹھانا ہوگا۔

مڈٹرم انتخابات ٹرمپ کے لیے امتحان کیوں ہیں؟

امریکا میں مڈٹرم انتخابات کو اکثر صدر کی کارکردگی پر عوامی رائے کا اظہار سمجھا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی مقبولیت، معیشت، مہنگائی، امیگریشن اور ان کی حکومتی پالیسیوں پر عوامی ردعمل ان انتخابات میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اگر ووٹرز بڑی تعداد میں ریپبلکن امیدواروں کے بجائے ڈیموکریٹس کو منتخب کرتے ہیں تو اسے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف سیاسی ردعمل بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ان انتخابات کو صرف کانگریس کی نشستوں کی جنگ نہیں بلکہ ٹرمپ کی صدارت کے اگلے دو سال کے لیے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔

اگر ٹرمپ کی جماعت ہار گئی تو کیا ہوگا؟

یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے، اگر ریپبلکن پارٹی مڈٹرم انتخابات ہار جاتی ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ خود بخود صدارت سے محروم نہیں ہوں گے۔

امریکی صدر کی مدت چار سال ہوتی ہے اور مڈٹرم انتخابات میں صدر کا انتخاب نہیں کیا جاتا۔ ٹرمپ اپنی مدت مکمل کرنے تک صدر رہیں گے۔

البتہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس کے ایک یا دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو صدر کے لیے اپنی مرضی کے مطابق قانون سازی اور حکومتی فیصلوں پر عمل درآمد آسان نہیں رہے گا۔

اس کے اثرات تین اہم شعبوں میں سامنے آسکتے ہیں۔

1۔ قانون سازی میں رکاوٹیں

امریکی کانگریس کا بنیادی کام قانون سازی اور وفاقی بجٹ کی منظوری ہے۔ اگر ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے پاس چلا گیا تو ٹرمپ کی جماعت کے لیے اپنی مرضی کے قوانین منظور کروانا مشکل ہوگا۔

ڈیموکریٹس صدر کے پیش کردہ بلوں کی مخالفت کرسکتے ہیں، جبکہ اپنی تجاویز سامنے لا سکتے ہیں۔ اس طرح وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان سیاسی کشمکش بڑھ سکتی ہے۔

2۔ صدر کی پالیسیوں اور حکومتی معاملات کی تحقیقات

ایوانِ نمائندگان کی کمیٹیوں کو سرکاری اداروں اور حکومتی فیصلوں کی تحقیقات کا اختیار حاصل ہے۔ اگر ڈیموکریٹس اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو وہ مختلف حکومتی معاملات پر سماعتیں کرسکتے ہیں، دستاویزات طلب کرسکتے ہیں اور سرکاری اہلکاروں کو جواب دہی کے لیے بلا سکتے ہیں۔

اس طرح ٹرمپ انتظامیہ کو کانگریس کے سامنے اپنے فیصلوں اور پالیسیوں کا جواب دینا پڑسکتا ہے۔

3۔ اہم تقرریوں میں رکاوٹ

امریکی سینیٹ صدر کی جانب سے اہم حکومتی اور عدالتی عہدوں کے لیے نامزد افراد کی منظوری میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اگر سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو اکثریت مل گئی تو وہ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی جانے والی بعض اہم تقرریوں کو روک سکتے ہیں یا ان کی منظوری میں تاخیر کرسکتے ہیں۔ اس میں وفاقی ججوں اور اعلیٰ حکومتی عہدوں کے لیے نامزد افراد بھی شامل ہیں۔

کیا ٹرمپ کو صدارت سے ہٹایا بھی جاسکتا ہے؟

یہ وہ سوال ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔ امریکی آئین کے تحت کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کو صدر کے خلاف مواخذے یعنی امپیچمنٹ کی کارروائی شروع کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اگر ایوانِ نمائندگان سادہ اکثریت سے مواخذے کی منظوری دے دے تو صدر کے خلاف باقاعدہ الزامات عائد ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صدر فوراً عہدے سے ہٹ جائیں گے۔

اس کے بعد معاملہ سینیٹ میں جاتا ہے، جہاں مواخذے کا ٹرائل ہوتا ہے۔ صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں موجود ارکان کے دو تہائی ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

یعنی ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرکے مواخذے کی کارروائی شروع تو کرسکتے ہیں، لیکن صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں بھی مطلوبہ اکثریت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔

ماضی میں بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو مرتبہ مواخذے کا سامنا کرچکے ہیں، تاہم دونوں مرتبہ سینیٹ نے انہیں مجرم قرار دے کر عہدے سے نہیں ہٹایا۔

کیا صدر کانگریس کے بغیر حکومت چلا سکتا ہے؟

اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو بھی ٹرمپ کے تمام اختیارات ختم نہیں ہوں گے۔

صدر کے پاس انتظامی احکامات جاری کرنے، خارجہ پالیسی اور وفاقی انتظامیہ کے معاملات چلانے کے اختیارات برقرار رہیں گے، تاہم وہ ہر معاملے میں کانگریس کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔مثلاً قانون سازی، وفاقی بجٹ اور کئی اہم حکومتی فیصلوں کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے بھی ڈیموکریٹس کی ممکنہ کامیابی کی صورت میں اپنی حکمتِ عملی تیار کی ہے، تاکہ صدر انتظامی اختیارات کے ذریعے امیگریشن، ٹیرف اور دیگر پالیسیوں پر کام جاری رکھ سکیں۔

نظریں نتائج پر ہیں

امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج صرف کانگریس کی نشستوں کا فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ یہ بھی طے کریں گے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی صدارتی مدت کے باقی دو سال کتنی سیاسی آزادی کے ساتھ گزار سکیں گے۔

اگر ریپبلکنز دونوں ایوانوں میں اکثریت برقرار رکھتے ہیں تو ٹرمپ کو اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے نسبتاً زیادہ حمایت حاصل رہے گی۔

لیکن اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان طاقت کا توازن تبدیل ہوسکتا ہے، یعنی ٹرمپ صدر تو رہیں گے، لیکن ان کے فیصلوں پر نگرانی، قانون سازی میں رکاوٹیں اور سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔