چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ امریکی صدر کی جانب سے دورہ مؤخر کرنے کی درخواست کو نوٹ کیا گیا ہے،امریکا  کی جانب سے اس تاخیر کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کو قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث اعلیٰ سطح کی ملاقات کو وقتی طور پر ملتوی کیا گیا۔

انہوں  نے واضح کیا کہ اس دورے کی تاخیر کا آبنائے ہرمز کے معاملے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہے، تاہم چین خطے کی مجموعی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سفارت کاری عالمی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے،سربراہانِ مملکت کے درمیان ملاقاتیں دوطرفہ تعلقات کی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

دوسری جانب حالیہ دنوں میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والے امریکا اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات کو مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے،ان مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے باہمی تعاون کو فروغ دینے اور تجارتی تنازعات کو کم کرنے کے حوالے سے پیش رفت کی ہے۔

مزید پڑھیں: نیٹو ممالک نے ایران کے خلاف جنگ میں تعاون نہیں کیا، اب امریکا کو بھی کسی کی ضرورت نہیں، ٹرمپ

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تعلقات میں بہتری نہ صرف عالمی معیشت کے لیے اہم ہے بلکہ موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں بھی اس کی خاص اہمیت ہے۔

واضع رہے کہ مطابق اگرچہ ٹرمپ کے دورے میں تاخیر ہوئی ہے، تاہم جاری سفارتی رابطے اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ دونوں ممالک کشیدگی کے باوجود مذاکرات اور تعاون کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔