تازہ بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ امید ہے ایران کے خلاف جاری جنگ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع ساتویں ماہ میں داخل ہوچکا ہے اور خطے میں فوجی کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے رہنماؤں یا وزرائے خارجہ سے ملاقات کرسکتے ہیں۔ مجوزہ ملاقات میں ایران جنگ کی آئندہ حکمتِ عملی اور تنازع کے بعد خطے کی صورتحال سے متعلق امریکی تجاویز پر غور متوقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کے نمائندے شریک ہوسکتے ہیں۔ بات چیت میں جنگ کے اگلے مرحلے کے علاوہ جنگ کے خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی اور علاقائی انتظامات سے متعلق امریکی منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
امریکی انتظامیہ پہلے ہی ایران جنگ کے بعد کی حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق مجوزہ منصوبے میں خطے میں ایران کو محدود رکھنے کے لیے علاقائی تعاون بڑھانے سمیت مشرق وسطیٰ کے مختلف سیکیورٹی اور سفارتی معاملات کو ایک وسیع تر حکمتِ عملی کے تحت دیکھنے کی تجاویز شامل ہیں۔ تاہم یہ منصوبہ ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کرچکا۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ ایران جنگ کے ساتھ ساتھ یمن اور سعودی عرب کے درمیان حوثی تنازع میں بھی فوجی سرگرمیاں جاری ہیں، جس کے باعث علاقائی سیکیورٹی اور توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔
ٹرمپ کے تازہ بیان اور خلیجی رہنماؤں سے متوقع ملاقات کو واشنگٹن کی جانب سے جنگ کے ممکنہ اختتام اور اس کے بعد کے علاقائی انتظامات پر مشاورت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم جنگ کے خاتمے کی حتمی مدت یا مذاکرات کے ممکنہ نتائج کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔







