ایک انٹرویو میں رانا سکندر حیات نے کہا کہ پنجاب کے وزیر تعلیم کی حیثیت سے اب تک ان کے سامنے ہفتے میں تین دن اسکول بند رکھنے کے حوالے سے کوئی باقاعدہ تجویز نہیں آئی، اگر ایسی کوئی تجویز زیرِ غور ہے تو تعلیم کے شعبے کو اس سے مستثنیٰ رکھا جانا چاہیے۔

صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ اسکولوں کی معمول کی تدریسی سرگرمیوں کو جاری رکھنا ضروری ہے، کیونکہ تعلیمی اداروں میں اضافی تعطیلات سے طلبہ کی پڑھائی اور تعلیمی عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

رانا سکندر حیات کے مطابق جمعہ کے روز اسکول بند رکھنے کی صورت میں ڈیزل یا دیگر اخراجات میں بھی کوئی نمایاں کمی نہیں آئے گی، سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم تقریباً 90 فیصد بچے پیدل اسکول آتے جاتے ہیں، اس لیے اسکول بند کرنے سے ٹرانسپورٹ یا ایندھن کی مد میں بڑی بچت کا دعویٰ مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نجی اسکولوں کے حوالے سے بھی صورتحال بڑی حد تک مختلف نہیں، کیونکہ ان کے مطابق نجی تعلیمی اداروں میں بھی تقریباً 90 فیصد بچے پیدل اسکول جاتے ہیں۔ اس لیے صرف ایندھن کی بچت کو بنیاد بنا کر تعلیمی اداروں کے تدریسی دن کم کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

صوبائی وزیر تعلیم نے وفاقی حکومت سے بھی اپیل کی کہ تعلیم کے شعبے کو ایسی کسی بھی پابندی یا اضافی تعطیلات سے مستثنیٰ رکھا جائے تاکہ طلبہ کی تعلیم کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں مقررہ تدریسی دنوں کے دوران باقاعدگی سے کلاسز کا انعقاد طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور نصاب کی بروقت تکمیل کے لیے اہم ہے۔ اضافی چھٹیوں کے نتیجے میں تعلیمی کیلنڈر متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور طلبہ دونوں کے لیے تدریسی اہداف مکمل کرنا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔

رانا سکندر حیات نے واضح کیا کہ پنجاب میں اسکولوں کو معمول کے مطابق جاری رکھنے پر توجہ دی جارہی ہے اور تعلیم کے شعبے کو توانائی یا دیگر انتظامی اقدامات کے لیے کیے جانے والے عمومی فیصلوں سے الگ دیکھنے کی ضرورت ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت طلبہ کی تعلیم، تدریسی عمل اور اسکولوں کے معمول کے نظام کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ تعلیم کے شعبے کو کسی بھی ایسی پابندی سے مستثنیٰ رکھا جائے جس سے طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔