کراچی میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ چھوٹے رقبوں پر کاشتکاری کرنے والے کسان ادویات اور یوریا کی مہنگائی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، جب کہ ملک میں آج بھی ’ہاری ابن ہاری اور وڈیرا ابن وڈیرا‘ کا نظام قائم ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جاگیرداروں، چوہدریوں، خانوں اور سرداروں کا اثر و رسوخ برقرار ہے اور عام ہاری کو آج بھی بااثر طبقے کے سامنے عزت کے ساتھ کھڑے ہونے کا حق نہیں ملا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے گندم کی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت مقررہ ریٹ پورا ادا نہیں کرتی، جس کے باعث چھوٹا کسان گندم کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے، جب کہ ذخیرہ اندوز اسے سستے داموں خرید کر منافع کماتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2200 روپے میں خریدی جانے والی گندم مارکیٹ میں 5000 روپے تک پہنچ جاتی ہے اور اس عمل میں حکومت اور متعلقہ کمپنیوں کے کردار پر سوالات اٹھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے باعث 20 سے 25 روپے کی روٹی بھی غریب عوام کے لیے مہنگی ہوگئی ہے، جب کہ مڈل کلاس بجلی کے بل، بچوں کی تعلیم اور دیگر بنیادی اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے پنجاب حکومت کے ترقیاتی دعووں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چند سڑکیں اور پل بنانا یا بی آر ٹی اور اورنج ٹرین کے منصوبے مکمل کرنا ہی ترقی کا معیار نہیں۔
انہوں نے پنجاب کے سرکاری اسکولوں کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 11 ہزار اسکول فروخت کیے جاچکے ہیں اور مزید 15 ہزار اسکول فروخت کرنے کی بات کی جارہی ہے۔
انہوں نے مریم نواز کی بیٹی کی لندن گریجویشن تقریب کے لیے مبینہ طور پر سرکاری طیارے کے استعمال سے متعلق سوالات بھی اٹھائے اور کہا کہ اس کے اخراجات، پائلٹس کی تنخواہوں اور طیارے کی پارکنگ سمیت دیگر اخراجات کون برداشت کرتا ہے، اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے اس معاملے کو ’مریم طیارہ کیس‘ قرار دیتے ہوئے تحقیقات اور حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔
سندھ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو تقریباً 18 سال مکمل ہوچکے ہیں، لیکن صوبے کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے سندھ میں ہزاروں ’گھوسٹ اسکولوں‘ کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے تعلیمی اداروں، کالجوں اور جامعات کی صورتحال پر بھی سوالات موجود ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ مسئلہ صرف کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پورا نظام بااثر جاگیرداروں اور مفاداتی عناصر کے کنٹرول میں ہے۔ جماعت اسلامی کسی فرد، پارٹی یا شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ اس نظام کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے اور موجودہ نظام کے بینیفشری عوام کے سامنے بے نقاب ہوتے جائیں گے۔
آئی پی پیز کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان میں نجی بجلی گھروں کا سلسلہ 1994 میں شروع ہوا اور مختلف حکومتوں نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کیے۔
انہوں نے ان معاہدوں میں بجلی گھروں کی پیداواری صلاحیت، قرضوں، سود، منافع اور ٹیکس ادائیگیوں سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے حکومت سے وضاحت طلب کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض آئی پی پیز سے متعلق کمپنیوں کی آف شور رجسٹریشن اور بیرون ملک مفادات کے معاملات بھی موجود ہیں، جب کہ عوام بجلی کے بلوں میں مختلف ٹیکسوں، سرچارجز، فیول ایڈجسٹمنٹ اور دیگر مدات کی صورت میں اضافی بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے دو سال قبل بھی آئی پی پیز کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا، جس کے بعد حکومت اور آئی پی پیز کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ حکومت نے معاہدوں میں تبدیلی کے نتیجے میں ساڑھے چار ہزار ارب روپے کے فائدے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ اس کا مکمل فائدہ عوام تک منتقل نہیں ہوا۔
انہوں نے شوگر مافیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے چینی درآمد کرنے کی اجازت کے باوجود مارکیٹ میں قیمتیں کم نہیں ہوئیں، جب کہ اب شوگر مل مالکان 10 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ حکومت کو چینی کی درآمد، برآمد، قیمتوں اور شوگر مل مالکان کے مفادات سے متعلق معاملات پر عوام کو جواب دینا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کی دھرنا تحریک نے آئی پی پیز، چینی، آٹا اور دیگر مافیاز کے معاملات کو عوام کے سامنے اجاگر کیا ہے۔ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے حکمرانوں کو اپنی مراعات اور اخراجات کم کرنے چاہئیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں 42 مقامات پر دھرنے جاری ہیں، کراچی میں مسلسل دوسرے روز دھرنا جلسہ عام کی شکل اختیار کرچکا ہے، جب کہ لاہور، راولپنڈی، گجرات، خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی احتجاج جاری ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ شدید گرمی، حبس، بارش اور طوفان کے باوجود دھرنا شرکاء مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کی تحریک کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا ہے اور سیاسی جماعتوں کو عوام کے مسائل کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔







