اصل کہانی، جو ابھی ختم نہیں ہوئی، وہ سعودی عرب کے بحیرۂ احمر کی اہم برآمدی بندرگاہ ینبع سے تیل کی لوڈنگ کی معطلی ہے، یہ اس وقت ہوا جب مشرق، مغرب پائپ لائن، جو سعودی عرب کو آبنائے ہرمز کا متبادل راستہ فراہم کرتی تھی، عراقی ملیشیاؤں کے مبینہ ڈرون حملوں میں ناکارہ ہو گئی۔
اوپر سے حوثیوں نے باب المندب پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے، جس سے سعودی بحری جہازوں کو یا تو انتہائی طویل اور مہنگا راستہ (افریقہ کے گرد گھوم کر) اختیار کرنا پڑ رہا ہے یا نہر سوئیز اور سومیڈ پائپ لائن کی محدود گنجائش پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ صورتحال محض ایک تکنیکی رکاوٹ نہیں، بلکہ عالمی تیل منڈی کی اس بنیادی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ دنیا کی توانائی کی رگ آج بھی چند ہاتھوں میں مرکوز ہے۔
سعودی عرب اور روس کی اجارہ داری: ایک پرانا کھیل، نئی شکل میں
اوپیک، اور اس سے آگے OPEC+ (جس میں سعودی عرب کی قیادت میں اوپیک ارکان کے ساتھ روس بھی شامل ہے)، آج بھی عالمی تیل کی پیداوار کے ایک بہت بڑے حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ سعودی عرب "سوئنگ پروڈیوسر" کا کردار ادا کرتا ہے، یعنی وہ جب چاہے پیداوار بڑھا یا گھٹا کر قیمتوں کی سمت طے کر سکتا ہے۔ روس، مغربی پابندیوں کے باوجود، اپنی برآمدات کو متبادل منڈیوں (چین، بھارت) کی طرف موڑ کر اس اجارہ داری میں اپنا حصہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ دونوں ممالک، باقاعدہ کارٹل کی شکل میں ہوں یا غیر رسمی ہم آہنگی کی صورت میں، عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے اصل فیصلہ ساز ہیں۔
مگر اس اجارہ داری کا ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ جب ان دو طاقتوں میں سے کسی ایک کا انفراسٹرکچر (پائپ لائن، بندرگاہ، برآمدی راستہ) متاثر ہوتا ہے، چاہے جنگ کی وجہ سے، ڈرون حملوں کی وجہ سے، یا محض جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے تو پوری دنیا، بشمول وہ ممالک جن کا اس تنازع سے دور کا بھی تعلق نہیں، قیمتوں کے جھٹکے برداشت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سعودی عرب کا "عارضی طور پر تیل درآمد کرنے والا ملک" بن جانے کا امکان۔
جیسا کہ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس بات کی علامت ہے کہ دنیا کی توانائی کی حفاظت کتنی نازک بنیادوں پر کھڑی ہے۔
پاکستان: بغیر جنگ لڑے، ہر جنگ کا بوجھ اٹھانے والا ملک
پاکستان کا اس پورے تنازع سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ نہ ینبع کی پائپ لائن سے، نہ باب المندب کی کشیدگی سے، نہ سعودی-حوثی محاذ آرائی سے۔ مگر جیسے ہی برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھتی ہے، اسلام آباد میں پیٹرول پمپ پر قطاریں لمبی ہونے لگتی ہیں۔ رواں ماہ ہی پاکستان میں سات مرتبہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہو چکا ہے، اور حکومت اب ہفتہ وار کی بجائے یومیہ بنیاد پر قیمتوں کا تعین کر رہی ہے، گویا عالمی منڈی کے ہر ہچکولے کو براہِ راست عوام کی جیب پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ پاکستان کی توانائی کی درآمدات پر شدید انحصار ہے۔ ہمارے پاس نہ اپنے تیل کے وسیع ذخائر ہیں، نہ متبادل توانائی کے ذرائع پر خاطر خواہ سرمایہ کاری، اور نہ ہی اسٹریٹیجک ریزرو جیسا کوئی حفاظتی نظام جو امریکہ اور چین جیسے ممالک کے پاس موجود ہے اور جسے وہ عین ایسے بحرانوں میں قیمتوں کو متوازن رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ جب سعودی عرب اور روس کے مابین طے پانے والی حکمتِ عملی، یا ان کے انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملے، عالمی رسد کو متاثر کرتے ہیں تو پاکستان جیسے درآمد کنندہ ممالک کے پاس سوائے قیمت بڑھانے اور عوام کو "ریلیف پیکجز" کی شکل میں تھوڑی سی تسلی دینے کے کوئی چارہ نہیں بچتا۔
آگے کیا ہوگا؟
بین الاقوامی توانائی ایجنسی پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ رسد میں خلل اور کم ہوتے سٹریٹیجک ذخائر کے باعث 2027 میں بھی تیل کی قیمتوں میں کمی کا امکان کم ہے۔ اگر سعودی عرب کا انفراسٹرکچر مزید حملوں کی زد میں رہا، یا باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے اہم راستے غیر محفوظ رہے، تو پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
اصل سبق یہ ہے کہ جب تک عالمی توانائی کی منڈی چند پیداواری طاقتوں کی اجارہ داری میں قید ہے، پاکستان جیسے درآمد کنندہ ممالک محض تماشائی بنے رہیں گے۔ نہ فیصلہ سازی میں شریک، نہ اثرات سے محفوظ۔ اس انحصار کو کم کرنا، متبادل توانائی ذرائع میں سرمایہ کاری بڑھانا، اور کم از کم بنیادی سطح کے اسٹریٹیجک ذخائر کی صلاحیت پیدا کرنا اب محض پالیسی کی تجویز نہیں بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ بن چکا ہے۔ ورنہ ریاض میں اٹھنے والی ہر کھانسی، اسلام آباد میں بخار بن کر اترتی رہے گی۔







