خبر رساں اداروں کے مطابق واقعہ پیر کے روز لکھی سرائے کے اشوک دھام مندر میں پیش آیا، جہاں ہندو مذہبی مہینے شراون کے دوران بڑی تعداد میں عقیدت مند ہندو بھگوان شیو کو پانی چڑھانے کے لیے موجود تھے۔
سینئر پولیس افسر شیو کمار نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مندر میں موجود بجلی کا ایک کھمبا گر گیا، جس کے نتیجے میں بعض افراد کو بجلی کا کرنٹ لگا اور بعد ازاں وہاں بھگدڑ جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔
پولیس کے مطابق واقعے کی حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی، جب کہ ایک سینئر سرکاری افسر نے کم از کم 5 افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔
حادثے کے بعد امدادی کارکنوں نے متاثرین کو اسپتال منتقل کیا، جب کہ مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں اسپتالوں کے باہر متاثرین کے لواحقین اور امدادی سرگرمیوں کے مناظر دیکھے گئے۔
بہار کے وزیراعلیٰ سمرت چودھری نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کو فوری اور مناسب طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
رپورٹس کے مطابق حادثے کے وقت مندر میں شراون کے مذہبی مہینے کی مناسبت سے بڑی تعداد میں زائرین موجود تھے۔
انڈیا میں مذہبی تہواروں اور مقدس مقامات پر بڑے اجتماعات کے دوران ماضی میں بھی بھگدڑ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس مہا کمبھ کے دوران بھگدڑ کے ایک واقعے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اشوک دھام مندر کے واقعے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ حکام حادثے کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔







