اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے لبنان کے ساتھ جلد از جلد براہِ راست امن مذاکرات کیے جائیں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بینجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ کابینہ کو لبنان کے ساتھ مذاکرات کے انتظامات کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ یہ مذاکرات لبنان کی جانب سے بار بار براہِ راست بات چیت کی درخواستوں کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور اسرائیل اور لبنان کے درمیان پرامن تعلقات قائم کرنا ہے۔ انہوں نے لبنانی وزیرِ اعظم کی جانب سے بیروت کو غیر مسلح کرنے کی درخواست کو بھی سراہا۔

ادھر لبنانی صدر نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم سے لبنان پر حملوں میں کمی کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مذاکرات کو آسان بنایا جا سکے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی صدر نے وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے کہا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملے کم کیے جائیں تاکہ ایران کے ساتھ جاری نازک جنگ بندی متاثر نہ ہو۔

سی این بی سی نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بات اسرائیلی وزیرِ اعظم سے ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہی، جس میں نیتن یاہو نے لبنان پر حملے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے لبنان کے معاملے میں احتیاط برتنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہو سکے۔

تاہم ایران کے ساتھ کشیدگی کے آغاز کے بعد گزشتہ روز اسرائیل نے لبنان پر بڑے فضائی حملے کیے، جس سے یہ تاثر نہیں ملا کہ اسرائیل نے احتیاط برتنے پر رضامندی ظاہر کی ہو۔

البتہ آج، یعنی صدر ٹرمپ کی درخواست کے اگلے روز، اسرائیلی فضائیہ نے لبنان پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا، اگرچہ اس کی شدت گزشتہ روز کے مقابلے میں قدرے کم رہی۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدے میں لبنان شامل نہیں، جب کہ ایران اور پاکستانی ثالثوں کا کہنا ہے کہ لبنان بھی اس معاہدے کے دائرہ کار میں آتا ہے۔