نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی ہدایت پر جاری کیے گئے ان قانونی نوٹس میں ایمیزون، والمارٹ، ٹارگٹ، وے فیئر، ٹیمو کی پیرنٹ کمپنی پی ڈی ڈی ہولڈنگز سمیت متعدد بڑی ای کامرس کمپنیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ایسے برقی ذرائع آمدورفت کی فروخت فوری طور پر بند کریں جو ریاستی قوانین اور حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتے۔

میئر ظہران ممدانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اپنے بیان میں کہا کہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور غیرقانونی ای بائیکس اور ای اسکوٹرز کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، اس لیے ایسے کاروبار کے خلاف سخت اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "نیویارک کے شہریوں کی حفاظت کسی بھی تجارتی مفاد سے زیادہ اہم ہے۔ جو کمپنیاں خطرناک اور غیرقانونی گاڑیاں فروخت کر رہی ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔"

شہری انتظامیہ کے مطابق جن ای بائیکس اور ای اسکوٹرز کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ رفتار، وزن، طاقت اور دیگر حفاظتی تقاضوں کے اعتبار سے ریاست نیویارک کے قوانین سے مطابقت نہیں رکھتے، ان میں سے کئی گاڑیاں مقررہ حد سے کہیں زیادہ رفتار رکھتی ہیں، جس کے باعث حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق حالیہ کارروائی ایک افسوسناک حادثے کے بعد مزید تیز کی گئی، جس میں ایک غیرقانونی ای بائیک کی ٹکر سے 17 سالہ نوجوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس واقعے نے شہر میں ای بائیکس اور ای اسکوٹرز کی فروخت اور استعمال سے متعلق حفاظتی اقدامات پر نئی بحث چھیڑ دی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2017 سے اب تک غیرقانونی ای بائیکس سے متعلق حادثات میں 45 سے زائد افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران غیرقانونی اسٹینڈ اپ ای اسکوٹرز سے پیش آنے والے حادثات میں بھی 14 سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جس پر شہری حلقوں اور قانون سازوں نے متعدد بار تشویش کا اظہار کیا ہے۔

میئر ممدانی کا کہنا تھا کہ صرف مالی فائدے کے لیے غیر محفوظ مصنوعات فروخت کرنا ناقابل قبول ہے، ہر شہری کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ گھر سے نکلے تو محفوظ طریقے سے واپس بھی لوٹے، اور یہی مقصد موجودہ کارروائی کا بنیادی محور ہے۔

دوسری جانب میئر ظہران ممدانی کی جانب سے کم آمدنی والے شہریوں کے لیے سرکاری معاونت سے سستے گروسری اسٹورز قائم کرنے کے منصوبے پر بھی بحث جاری ہے۔ اس منصوبے کے تحت نیویارک کے پانچوں بورو میں ایسے اسٹورز قائم کیے جائیں گے جہاں بنیادی اشیائے خورونوش نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہوں گی۔

شہری انتظامیہ نے اس منصوبے کے لیے تقریباً 70 ملین ڈالر مختص کیے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ذریعے شہری روزمرہ استعمال کی اشیاء پر اوسطاً 30 فیصد تک بچت کر سکیں گے۔

ادھر ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیر مؤثر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید روبوٹکس ٹیکنالوجی ہی مصنوعات اور خدمات کی لاگت میں نمایاں کمی لانے کا ذریعہ بنیں گی، نہ کہ سرکاری سبسڈی پر مبنی ماڈل۔

یاد رہے کہ نیویارک انتظامیہ کی حالیہ کارروائی نہ صرف آن لائن ریٹیل کمپنیوں کے لیے ایک سخت پیغام ہے بلکہ یہ ای بائیکس اور ای اسکوٹرز کی فروخت سے متعلق حفاظتی قوانین پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش بھی ہے۔ اگر کمپنیوں نے جاری کردہ قانونی نوٹس پر عمل نہ کیا تو ان کے خلاف عدالتی کارروائی، بھاری جرمانوں اور دیگر قانونی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔