عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے منگل کو تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ اور علاقائی امور سمیت آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایران اور عمان کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی کی اہمیت پر اتفاق کیا، جب کہ اس عمل میں دونوں ممالک کی خودمختاری اور خودمختار حقوق کا احترام یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

بیان کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک نے ایک مرحلہ وار فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا، جس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے عارضی مشترکہ بحری راہداری قائم کرنا اور پانیوں سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مشترکہ منصوبہ شروع کرنا شامل ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں 7 ناٹیکل میل چوڑی عارضی شپنگ راہداری قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقل بحری راستے اور آبنائے کے مستقبل کے انتظام کے حوالے سے مذاکرات بعد میں جاری رہیں گے۔

ایرانی حکام کے مطابق آئندہ تکنیکی مذاکرات میں بحری ٹریفک کے انتظام، معلومات کے تبادلے اور بحری و سیکیورٹی خدمات کی فراہمی کے طریقہ کار پر بھی بات ہوگی۔

دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز سے متصل دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ بھی مشترکہ مشاورت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ فریقین نے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور ساحلی ریاستوں کے خودمختار حقوق کے احترام کو بھی اہم قرار دیا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے امریکی دعوے پر بھی سوال اٹھایا کہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں مکمل طور پر صاف کردی گئی ہیں۔ اگر امریکا نے آبنائے کو مکمل طور پر محفوظ بنا دیا ہے تو امریکی بحری جہاز اس راستے سے گزر کیوں نہیں رہے۔

دوسری جانب عمان کی وزارت خارجہ نے ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک آبنائے ہرمز میں مستقل بحری راہداری اور طویل مدتی انتظامات کے لیے تکنیکی مذاکرات جاری رکھیں گے۔

مزید پڑھیں؛ ضرورت پڑی تو ایران کے خلاف مسلح کارروائیاں کی جائیں گی: امریکی وزیرِ دفاع

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور جنگ سے قبل عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی تھی۔

موجودہ کشیدگی کے باعث اس راستے میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے، جب کہ حالیہ دنوں میں ایک آئل ٹینکر کو بھی آبنائے ہرمز کے قریب نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائل سے نقصان پہنچنے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

ایران اور عمان کے درمیان تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توانائی منڈیوں کے لیے بھی اہم بن چکی ہے۔