کمپلیکس کی انتظامیہ کے مطابق آگ منگل کو زیر تعمیر صنعتی کمپلیکس میں بھڑکی، جس کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔
حکام کے مطابق زخمی ہونے والے 152 افراد میں سے 36 کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جب کہ زخمیوں کو مزید علاج کے لیے روس کے دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کی غرض سے ایمرجنسی سروسز کا طیارہ بھی پہنچ گیا۔
کمپلیکس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آتشزدگی پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم واقعے کے بعد صنعتی گیسز کو محفوظ طریقے سے جلانے کا عمل جاری رکھا گیا تاکہ مزید کسی حادثے کا خطرہ نہ رہے۔
روسی حکام کے مطابق واقعے میں 9 چینی شہری تاحال لاپتا ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ مذکورہ گیس کیمیکل کمپلیکس روسی کمپنی سیبور اور چینی آئل اینڈ گیس کمپنی سینوپیک کا مشترکہ منصوبہ ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ دنیا کے بڑے پولی ایتھیلین اور پولی پروپیلین پیداواری منصوبوں میں شامل ہے، تاہم اس نے ابھی باقاعدہ پیداوار شروع نہیں کی تھی اور اسے پیداوار کے آغاز کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں ہولناک آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق، کب کیا ہوا؟
روس میں بڑے صنعتی اور انفرااسٹرکچر منصوبوں کی تعمیر کے لیے غیر ملکی افرادی قوت، خصوصاً چینی کارکنوں، پر بھی انحصار کیا جاتا ہے۔
روسی تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا صنعتی حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی اور آتشزدگی کی اصل وجہ کیا تھی۔







