لائیو

پمز ہسپتال کی نرسری میں ہولناک آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق، کب کیا ہوا؟

نیوز ڈیسک
پمز ہسپتال کی نرسری میں ہولناک آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق، کب کیا ہوا؟26 اگست، 2026

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے، جب کہ ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو بحفاظت نکال لیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر پھٹنے سے لگی۔

ذرائع کے مطابق پمز ہسپتال کی ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں آگ صبح تقریباً 6 بج کر 40 منٹ پر بھڑکی۔ آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق امدادی کارروائیوں میں 6 فائر بریگیڈ گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے حصہ لیا۔ فائر فائٹرز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا جب کہ متاثرہ بچوں کو فوری طور پر آئی سی یو منتقل کیا گیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق آتشزدگی کے باعث مجموعی طور پر 14 بچے مکمل طور پر جھلس گئے اور جاں بحق ہوگئے جب کہ ایک بچے کو ریسکیو کرلیا گیا۔ امدادی کارروائی کے دوران خواتین سمیت 19 افراد کو بھی بحفاظت عمارت سے نکالا گیا۔

پمز اسپتال کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں میں جویریہ کے بچے کے والد کا نام سمیع اللہ، عالیہ کے بچے کے والد کا نام راشد جب کہ انیسہ کے نومولود بچے کے والد کا نام عبداللہ بتایا گیا ہے۔

ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی ابتدائی وجہ ایئر کنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنا معلوم ہوئی ہے، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ حتمی وجہ انکوائری کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو 24 گھنٹے میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کمیٹی میں ڈی جی کیپٹل ایمرجنسی سروسز، ایس پی سٹی اسلام آباد، اسسٹنٹ کمشنر انڈسٹریل ایریا، ڈی جی ایمرجنسی سی ڈی اے، آئیسکو اور پمز ہسپتال کے نمائندے شامل ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق انکوائری کمیٹی نہ صرف آتشزدگی کی وجوہات کا تعین کرے گی بلکہ ہسپتال میں موجود فائر سیفٹی اور حفاظتی انتظامات، ریسکیو ٹیموں کے رسپانس ٹائم اور فائر فائٹنگ آپریشن کا بھی جائزہ لے گی۔

واقعے کے بعد چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف اور آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی بھی پمز ہسپتال پہنچے اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ آئی جی اسلام آباد نے چیف کمشنر کو ریسکیو آپریشن سے متعلق بریفنگ دی۔

دوسری جانب پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمران سکندر نے کہا ہے کہ آتشزدگی کے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی اور آگ لگنے کی اصل وجہ کا تعین کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پمز انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اگر کسی کی غفلت یا لاپرواہی کے باعث یہ واقعہ پیش آیا تو ذمہ دار کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

وزیر صحت نے کہا کہ اگر تحقیقات میں ان کی اپنی کوئی غلطی ثابت ہوئی تو انہیں بھی جواب دہ ہونا ہوگا۔

ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آتشزدگی کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شہباز شریف نے جاں بحق بچوں کے والدین اور لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کے ساتھ پیش آنے والا یہ اندوہناک واقعہ ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق بچوں کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعے نے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور نومولود بچوں کی حفاظت کے انتظامات پر بھی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں، تاہم واقعے کی حتمی وجوہات اور کسی ممکنہ غفلت کا تعین انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہی ہوسکے گا۔

تازہ اپڈیٹس

  1. شہباز شریف برہم، وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے ہٹا دیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کرکے عہدے سے ہٹا دیا۔

    پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس جاری ہے، جس میں وزیراعظم نے متعلقہ افسران پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ اجلاس کے لیے تمام متعلقہ حکام اور اداروں کے سربراہان کو وزیراعظم ہاؤس طلب کیا گیا ہے۔

    وزیراعظم نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے، جب کہ کمیٹی کے دیگر ارکان میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر بیرسٹر نویل اعوان شامل ہیں۔

    دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے بھی پمز ہسپتال آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے۔

    کمیٹی میں ڈی جی کیپٹل ایمرجنسی سروسز، ایس پی سٹی اسلام آباد، اسسٹنٹ کمشنر آئی نائن، ڈی جی ایمرجنسی سی ڈی اے، آئیسکو اور پمز ہسپتال کے افسران شامل ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق انکوائری کمیٹی آتشزدگی کی وجوہات، ہسپتال کے حفاظتی انتظامات اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لے گی اور 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی۔

    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وہ پمز انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اگر کسی کی لاپرواہی کے باعث یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا تو ذمہ داروں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ اگر واقعے میں ان کی اپنی غلطی ثابت ہوئی تو انہیں بھی جواب دہ ہونا ہوگا۔

  2. پمز اسپتال آتشزدگی: جماعت اسلامی کا فوری اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ

    امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق بچوں کے خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

    نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ معصوم نومولود بچوں کی ہلاکت انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ تلافی سانحہ ہے۔پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور آگ لگنے کی وجوہات سمیت ممکنہ غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

    امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نے کہا کہ ذمہ داران کا تعین کرکے غفلت ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر کے ہسپتالوں میں

    فائر سیفٹی انتظامات کا فوری آڈٹ کرایا جائے اور مریضوں خصوصاً نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

    نصراللہ رندھاوا نے مزید کہا کہ وہ دیگر سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ دوپہر ایک بجے پمز ہسپتال پہنچیں گے اور واقعے سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیں گے۔

  3. گیس لائنز اور پلاسٹک انسٹرومنٹس سے آگ پھیلی، طارق فضل چوہدری

    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے دوران گیس لائنز اور پلاسٹک انسٹرومنٹس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت وارڈ میں دو ڈاکٹرز، ایک نرس اور دیگر عملہ موجود تھا، جو واقعے میں محفوظ رہے۔

    طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین ابھی نہیں کیا جا سکتا اور اس حوالے سے کرائم سین کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دھماکہ جس بھی وجہ سے ہوا، آکسیجن کی سپلائی کے باعث آگ تیزی سے پھیلی۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید حقائق کرائم سین کے معائنے کے بعد سامنے آئیں گے۔

  4. نومولود بچوں کی میتیں لواحقین کے حوالے کرنے کا عمل شروع

    پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے بعد جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کی میتیں لواحقین کے حوالے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ پمز ہسپتال کے ترجمان کے مطابق اب تک 5 نومولود بچوں کی میتیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں، جب کہ دیگر بچوں کی شناخت اور ضروری قانونی کارروائی جاری ہے۔

    اسپتال کی دستاویز کے مطابق آتشزدگی کے واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ 15ویں بچے کو ریسکیو کر لیا گیا۔

    جاں بحق ہونے والے بچوں میں جویریہ کا نومولود بچہ، جس کے والد کا نام سمیع اللہ ہے، عالیہ کا نومولود بچہ، والد راشد، انیس خالد کا نومولود بچہ، والد عبداللہ، جب کہ آسیہ بی بی کے دو نومولود بچے، جن کے والد کا نام بہادر ہے، شامل ہیں۔

    دیگر جاں بحق بچوں میں شکیلہ کا نومولود بچہ، والد محمد تنویر، سدرا کا نومولود بچہ، والد عمران، سنبل کا نومولود بچہ، والد عثمان، کرن فاطمہ کا نومولود بچہ، والد محمد سعد الرحمٰن، آمنہ کا نومولود بچہ، والد خرم، ماریہ کا نومولود بچہ، والد قیوم، خضرہ کا نومولود بچہ، والد مدثر، حفصہ کا نومولود بچہ، جو ایم ایل سی کیس ہے اور اس کے والد کا نام اشتیاق ہے، جب کہ عروسہ سعید کا نومولود بچہ، والد عدریس خان، شامل ہیں۔

    اسپتال کی دستاویز کے مطابق آصفہ کا نومولود بچہ، والد وقاص، ریسکیو کر لیا گیا۔ پمز نرسری میں پیش آنے والے اس المناک واقعے کے بعد جاں بحق بچوں کی میتیں مرحلہ وار لواحقین کے حوالے کی جا رہی ہیں، جب کہ واقعے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات بھی جاری ہیں۔

مزید خبریں