لائیو

پمز اسپتال سانحہ: وفاقی حکومت کا جاں بحق نومولود بچوں کے خاندانوں کے لیے 50 لاکھ روپے فی خاندان معاوضے کا اعلان

نیوز ڈیسک
پمز اسپتال سانحہ: وفاقی حکومت کا جاں بحق نومولود بچوں کے خاندانوں کے لیے 50 لاکھ روپے فی خاندان معاوضے کا اعلان26 اگست، 2026

پمز اسپتال کی نرسری میں گزشتہ روز لگنے والی ہولناک آگ نے 14 نومولود بچوں کی جانیں لے لیں، سانحے کے بعد اسپتال میں میٹرنٹی کے نئے کیسز کا داخلہ روک دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق موجودہ گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے کیسز نہیں لیے جا رہے۔

  • گزشتہ روز اسلام آباد کے پمز اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر کی نرسری میں صبح تقریباً پونے سات بجے ہولناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔ آگ کے نتیجے میں نرسری میں موجود نومولود بچوں میں سے 14 بچے جاں بحق ہوگئے، جب کہ ایک بچے کو ریسکیو کرلیا گیا۔

  • وفاقی حکومت نے پمز کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی سے جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کے خاندانوں کے لیے 50 لاکھ روپے فی خاندان معاوضے کا اعلان کر دیا ہے۔
    رپورٹ کے مطابق آگ سے پیدا ہونے والا دھواں پائپ کے ذریعے بچوں کے سانس کے نظام میں داخل ہوا، جب کہ آکسیجن کی فراہمی متاثر ہونے اور جھلسنے سے بھی بچوں کی اموات ہوئیں۔

  • سانحے کے بعد اسپتال میں انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں جاں بحق نومولود بچوں کے والدین اور لواحقین بڑی تعداد میں موجود رہے۔

  • بچوں کی میتیں مرحلہ وار لواحقین کے حوالے کی گئیں، جب کہ ریسکیو حکام کے مطابق خواتین سمیت متعدد افراد کو عمارت سے بحفاظت نکالا گیا۔ واقعے نے پمز میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹس، عملے کی موجودگی اور ریسکیو انتظامات پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے۔

  • واقعے کا وزیراعظم شہباز شریف نے نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم دیا، جب کہ وفاقی سیکریٹری صحت کو عہدے سے معطل کردیا گیا۔

  • دوسری جانب پمز انتظامیہ نے بھی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی، جب کہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جو بھی غفلت یا کوتاہی کا ذمہ دار ہوا، اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔

تازہ اپڈیٹس

  1. قائمہ کمیٹی کا وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا مشورہ

    اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں نومولود بچوں کی موت کے دلخراش سانحے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے اسپتال انتظامیہ اور عملے کے جوابات پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو بھی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ تاہم حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقاتی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

    کمیٹی نے واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز، نرسوں اور دیگر اسٹاف کو معطل کرکے تحقیقات مکمل ہونے تک ان سے پوچھ گچھ کا مطالبہ کردیا ہے، جب کہ سانحے کی اصل وجہ، فائر سیفٹی انتظامات اور اسپتال انتظامیہ کی ممکنہ غفلت پر بھی سوالات اٹھا دیے گئے ہیں۔

    پمز اسپتال کی نرسری میں 26 اگست کو آتشزدگی کے نتیجے میں متعدد نومولود بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ واقعے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے آگ لگنے کی مختلف وجوہات سامنے آتی رہیں۔

    ابتدائی طور پر ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر یا شارٹ سرکٹ کو آگ لگنے کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا، جب کہ بعد میں پمز انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ میں انکوبیٹر کے ساتھ موجود آکسیجن سے متعلق نیبولائزر پھٹنے اور آکسیجن کے آگ پکڑنے کا مؤقف سامنے آیا۔ اس کے بعد واقعے کی وجوہات سے متعلق مزید سوالات نے جنم لیا۔

    پمز اسپتال کا دورہ کرنے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے رکن ڈاکٹر مہیش کمار نے انتظامیہ کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز انہیں بتایا گیا تھا کہ آگ ایئر کنڈیشنر سے لگی، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ متعلقہ اے سی کام ہی نہیں کررہا تھا۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور اسٹاف کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کمیٹی کا مؤقف ہے کہ جب تک یہ تعین نہیں ہوجاتا کہ حادثے کے وقت نرسری میں انتظامی اور طبی ذمہ داریاں کس کے پاس تھیں اور ایمرجنسی کے دوران کیا اقدامات کیے گئے، اس وقت ڈیوٹی پر موجود عملے کے کردار کی مکمل چھان بین ضروری ہے۔

  2. پمز نرسری آتشزدگی کی تحقیقات میں اہم پیش رفت، نئی انکوائری کمیٹی تشکیل

    پمز ایم سی ایچ نرسری میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پمز انتظامیہ نے آتشزدگی کی وجوہات اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے انکوائری کمیٹی دوبارہ تشکیل دے دی ہے۔

    پمز انتظامیہ کی جانب سے نئی انکوائری کمیٹی کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر عاطف انعام شامی کو انکوائری کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ پروفیسر ڈاکٹر الطاف حسین اور پروفیسر ڈاکٹر ساجد رفیق عباسی کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔

    ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر انیزہ جلیل کو کمیٹی کی سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر انیزہ جلیل سے وزیراعظم کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی واقعے سے متعلق جواب طلب کیا تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی انکوائری کمیٹی آتشزدگی کے وقت نرسری میں موجود فائر سیفٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لے گی اور یہ دیکھا جائے گا کہ حفاظتی نظام مناسب اور فعال تھا یا نہیں۔ اس کے علاوہ ریسکیو ٹیموں اور فائر فائٹنگ آپریشن کے ردعمل، انتظامات اور کارروائی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    کمیٹی کو آتشزدگی کے ذمہ داران کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ واقعے کی روک تھام کے لیے واضح سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    پمز انتظامیہ نے کمیٹی سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے اسے 48 گھنٹوں کے اندر ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے دفتر میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی آتشزدگی کی اصل وجوہات، فائر سیفٹی انتظامات، حفاظتی نظام کی موجودگی و فعالیت، ریسکیو کارروائی اور ممکنہ غفلت سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔

    پروفیسر ڈاکٹر قاسم محمود بٹ کی عدم دستیابی کے باعث سابقہ انکوائری کمیٹی کو دوبارہ تشکیل دیا گیا ہے۔ نئی کمیٹی کا بنیادی مقصد واقعے کی مکمل وجوہات سامنے لانا، حفاظتی انتظامات میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنا اور ذمہ داران کا تعین کرنا ہے۔

  3. سانحہ پمز کے بعد سندھ کے اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ

    وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے اسپتالوں کی پرانی وائرنگ کی فوری مرمت اور ضرورت کے مطابق نئی وائرنگ کرانے کی ہدایات جاری کردیں۔ اسپتالوں میں مریضوں، تیمارداروں اور طبی عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

    یہ بات انہوں نے سندھ سیکریٹریٹ کے کمیٹی روم میں ہیلتھ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ وفد نے صدر ہیلتھ رپورٹرز ایسوسی ایشن اختر شاہین رند کی قیادت میں وزیرِ صحت سے ملاقات کی۔

    ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے پمز اسپتال کے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق نومولود بچوں کے والدین سے تعزیت کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ غمزدہ خاندانوں کو صبر عطا فرمائے۔

    وزیرِ صحت سندھ نے بتایا کہ اسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات کی روک تھام کے لیے اہم اجلاس جاری ہیں اور فائر سیفٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سندھ کے اسپتالوں میں آگ لگنے جیسے المناک واقعات کی روک تھام کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔

    انہوں نے اسپتالوں کی پرانی اور ناقص وائرنگ کی مرمت کے ساتھ ساتھ جہاں ضرورت ہو وہاں نئی وائرنگ کرانے کی ہدایت کی، تاکہ شارٹ سرکٹ سمیت دیگر ممکنہ وجوہات کے باعث آتشزدگی کے خطرات کو کم کیا جاسکے۔

  4. پمز انتظامیہ کا میٹرنٹی کے نئے کیسز لینے سے انکار

    پمز اسپتال کی انتظامیہ نے میٹرنٹی کے نئے کیسز لینے سے انکار کردیا ہے۔

    پمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے نجی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں میٹرنٹی کے نئے کیسز نہ لینے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال میں گنجائش سے زیادہ مریض نہیں رکھے جاسکتے، اسی وجہ سے نئے کیسز لینے سے معذرت کی گئی ہے۔

    رانا عمران سکندر کے مطابق پمز کی بچوں کی نرسری میں 15 بیڈ مکمل طور پر جل گئے ہیں۔ نرسری میں مجموعی طور پر 50 بیڈ موجود تھے، تاہم آتشزدگی کے بعد اب صرف 35 بیڈ قابلِ استعمال رہ گئے ہیں۔

    ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز نے بتایا کہ متاثرہ بچوں اور مریضوں کو راولپنڈی اور اسلام آباد کے دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں متعلقہ اسپتالوں کو خطوط بھی ارسال کردیئے گئے ہیں، جبکہ کچھ بچوں کو پولی کلینک منتقل کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آتشزدگی کے بعد نرسری کی گنجائش کم ہونے کے باعث اسپتال کو مریضوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے متبادل انتظامات کرنا پڑ رہے ہیں۔

  5. تمام جاں بحق بچوں کی میتیں لواحقین کے حوالے کردی گئی ہیں، طلال چودھری

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پمز ہسپتال کا دورہ کیا، جہاں کمشنر اسلام آباد بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر طلال چوہدری نے پمز نرسری میں آتشزدگی کے واقعے سے متعلق امدادی کارروائیوں اور تحقیقات کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دی۔

    طلال چوہدری نے کہا کہ آج ایک انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا، جو صبح 6 اور 7 بجے کے درمیان رونما ہوا۔ واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن کو وزیر داخلہ محسن نقوی خود مانیٹر کر رہے تھے جبکہ اطلاع ملنے کے چھ منٹ کے اندر ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی تھیں۔

    وزیر مملکت داخلہ نے بتایا کہ تمام متعلقہ افسران بھی بروقت موقع پر پہنچے۔ آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی اندوہناک ہلاکت ہوئی، جب کہ تمام جاں بحق بچوں کی میتیں لواحقین کے حوالے کردی گئی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ابتدائی ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے اور اس کی رپورٹ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو بھجوا دی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ہائی پاور انکوائری ٹیم تشکیل دے دی ہے، جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔

    طلال چوہدری کے مطابق انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور نتائج سامنے آنے کے بعد جزا و سزا کا عمل شروع کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ ایمرجنسی کے دروازے کیوں بند تھے اور حادثے کے وقت کتنے ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر طبی عملہ موجود تھا۔

    وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں تاخیر سے پہنچیں، تاہم کنٹرول روم میں کال موصول ہونے کے چھ منٹ بعد ریسکیو ٹیمیں پمز ہسپتال پہنچ گئی تھیں۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ امدادی کارروائی کے دوران سات بچوں سمیت 19 افراد کو بحفاظت ریسکیو کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ طلب کی تھی اور تحقیقات کے لیے انکوائری ٹیم تشکیل دینے کے علاوہ بعض افسران کو عہدوں سے ہٹانے کے احکامات بھی دیے ہیں۔

    طلال چوہدری نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا اور غفلت یا کوتاہی ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  6. شہباز شریف برہم، وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے ہٹا دیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کرکے عہدے سے ہٹا دیا۔

    پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس جاری ہے، جس میں وزیراعظم نے متعلقہ افسران پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ اجلاس کے لیے تمام متعلقہ حکام اور اداروں کے سربراہان کو وزیراعظم ہاؤس طلب کیا گیا ہے۔

    وزیراعظم نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے، جب کہ کمیٹی کے دیگر ارکان میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر بیرسٹر نویل اعوان شامل ہیں۔

    دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے بھی پمز ہسپتال آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے۔

    کمیٹی میں ڈی جی کیپٹل ایمرجنسی سروسز، ایس پی سٹی اسلام آباد، اسسٹنٹ کمشنر آئی نائن، ڈی جی ایمرجنسی سی ڈی اے، آئیسکو اور پمز ہسپتال کے افسران شامل ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق انکوائری کمیٹی آتشزدگی کی وجوہات، ہسپتال کے حفاظتی انتظامات اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لے گی اور 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی۔

    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وہ پمز انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اگر کسی کی لاپرواہی کے باعث یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا تو ذمہ داروں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ اگر واقعے میں ان کی اپنی غلطی ثابت ہوئی تو انہیں بھی جواب دہ ہونا ہوگا۔

  7. واقعے کے وقت ہسپتال انتظامیہ اور عملہ کہاں تھا؟ حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 15 نومولود بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر شدید تنقید کی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں پیش آنے والے دلخراش واقعے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جب کہ 15 نومولود بچوں کی ہلاکت نے ان کے والدین کو ناقابلِ تصور اذیت میں مبتلا کردیا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے سوال اٹھایا کہ والدین کا یہ جائز سوال ہے کہ واقعے کے وقت ہسپتال انتظامیہ اور عملہ کہاں تھا؟

    انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی ایم حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کی کارکردگی بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ وفاقی حکومت، اس کے وزرا اور ماتحت بیوروکریسی کی نااہلی انتہا کو پہنچ چکی ہے، جب کہ صوبائی حکومتوں کی کارکردگی بھی اس سے مختلف نہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گزشتہ 40 سے 50 برسوں سے یہی سیاسی جماعتیں مختلف ادوار میں اقتدار میں رہی ہیں، لیکن معیشت، امن و امان، تعلیم، صحت اور دیگر تمام شعبوں میں ناکام رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اچھی حکمرانی کے دعوے کرنے والوں کے نعرے دفن ہوچکے ہیں۔ جو لوگ وفاقی دارالحکومت میں واقع ایک ہسپتال کا انتظام نہیں سنبھال سکتے، وہ پورے ملک کا نظام کیسے چلا سکتے ہیں؟

  8. 15 نومولود بچوں کی ہلاکت پر اسپیکر قومی اسمبلی کا اظہارِ افسوس

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 15 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    اپنے تعزیتی بیان میں اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ معصوم نومولود بچوں کی المناک ہلاکت انتہائی افسوسناک اور دلخراش سانحہ ہے۔ اپنے جگر گوشوں کی جدائی والدین کے لیے ناقابلِ بیان صدمہ ہے اور اس مشکل گھڑی میں وہ غمزدہ والدین اور اہلخانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

    سردار ایاز صادق نے جاں بحق بچوں کے والدین اور اہلخانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس دلخراش سانحے پر افسردہ ہے اور غم کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ معصوم بچوں کے ساتھ پیش آنے والے اس المناک واقعے نے ہر دل کو سوگوار کردیا ہے۔

    انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق بچوں کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور غمزدہ والدین و اہلخانہ کو اس ناقابلِ تلافی نقصان پر صبرِ جمیل اور حوصلہ عطا فرمائے۔

  9. پمز اسپتال آتشزدگی: جماعت اسلامی کا فوری اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ

    امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق بچوں کے خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

    نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ معصوم نومولود بچوں کی ہلاکت انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ تلافی سانحہ ہے۔پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور آگ لگنے کی وجوہات سمیت ممکنہ غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

    امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نے کہا کہ ذمہ داران کا تعین کرکے غفلت ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر کے ہسپتالوں میں

    فائر سیفٹی انتظامات کا فوری آڈٹ کرایا جائے اور مریضوں خصوصاً نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

    نصراللہ رندھاوا نے مزید کہا کہ وہ دیگر سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ دوپہر ایک بجے پمز ہسپتال پہنچیں گے اور واقعے سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیں گے۔

  10. گیس لائنز اور پلاسٹک انسٹرومنٹس سے آگ پھیلی، طارق فضل چوہدری

    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے دوران گیس لائنز اور پلاسٹک انسٹرومنٹس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت وارڈ میں دو ڈاکٹرز، ایک نرس اور دیگر عملہ موجود تھا، جو واقعے میں محفوظ رہے۔

    طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین ابھی نہیں کیا جا سکتا اور اس حوالے سے کرائم سین کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دھماکہ جس بھی وجہ سے ہوا، آکسیجن کی سپلائی کے باعث آگ تیزی سے پھیلی۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید حقائق کرائم سین کے معائنے کے بعد سامنے آئیں گے۔

  11. نومولود بچوں کی میتیں لواحقین کے حوالے کرنے کا عمل شروع

    پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے بعد جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کی میتیں لواحقین کے حوالے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ پمز ہسپتال کے ترجمان کے مطابق اب تک 5 نومولود بچوں کی میتیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں، جب کہ دیگر بچوں کی شناخت اور ضروری قانونی کارروائی جاری ہے۔

    اسپتال کی دستاویز کے مطابق آتشزدگی کے واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ 15ویں بچے کو ریسکیو کر لیا گیا۔

    جاں بحق ہونے والے بچوں میں جویریہ کا نومولود بچہ، جس کے والد کا نام سمیع اللہ ہے، عالیہ کا نومولود بچہ، والد راشد، انیس خالد کا نومولود بچہ، والد عبداللہ، جب کہ آسیہ بی بی کے دو نومولود بچے، جن کے والد کا نام بہادر ہے، شامل ہیں۔

    دیگر جاں بحق بچوں میں شکیلہ کا نومولود بچہ، والد محمد تنویر، سدرا کا نومولود بچہ، والد عمران، سنبل کا نومولود بچہ، والد عثمان، کرن فاطمہ کا نومولود بچہ، والد محمد سعد الرحمٰن، آمنہ کا نومولود بچہ، والد خرم، ماریہ کا نومولود بچہ، والد قیوم، خضرہ کا نومولود بچہ، والد مدثر، حفصہ کا نومولود بچہ، جو ایم ایل سی کیس ہے اور اس کے والد کا نام اشتیاق ہے، جب کہ عروسہ سعید کا نومولود بچہ، والد عدریس خان، شامل ہیں۔

    اسپتال کی دستاویز کے مطابق آصفہ کا نومولود بچہ، والد وقاص، ریسکیو کر لیا گیا۔ پمز نرسری میں پیش آنے والے اس المناک واقعے کے بعد جاں بحق بچوں کی میتیں مرحلہ وار لواحقین کے حوالے کی جا رہی ہیں، جب کہ واقعے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات بھی جاری ہیں۔

  12. جاں بحق نومولود بچوں کے لواحقین کے لیے 50 لاکھ روپے فی خاندان امداد دینے کا اعلان

    وفاقی حکومت نے پمز کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی سے جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کے خاندانوں کے لیے 50 لاکھ روپے فی خاندان معاوضے کا اعلان کر دیا ہے۔

    حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور انہیں ہر ممکن مدد اور تعاون فراہم کیا جائے گا۔

    حکومت کا کہنا تھا کہ کسی انسانی جان کا نعم البدل ممکن نہیں، تاہم معاوضے کا مقصد سوگوار خاندانوں کی مشکلات کچھ کم کرنا ہے۔

    یہ اعلان ایک روز بعد سامنے آیا جب پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر قائم نوزائیدہ بچوں کی انتہائی نگہداشت کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے۔

    واقعے کے وقت نرسری میں 15 نومولود موجود تھے، جن میں سے صرف ایک بچے کو بحفاظت نکالا جا سکا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق نرسری میں ایئر کنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنے سے آگ لگی، تاہم پمز انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ آکسیجن کی مقدار ناپنے والے نیبولائزر اور انکیوبیٹر کے قریب دھماکا ہوا۔

    ویڈیو فوٹیج میں ایئر کنڈیشنر سے شعلہ نکلتا دکھائی دیا۔ رپورٹ کے مطابق اس کے بعد آکسیجن نے آگ پکڑ لی اور دھواں پائپوں کے ذریعے نومولود بچوں کے سانس لینے کے نظام تک پہنچا، جس کے نتیجے میں بچے جھلسنے اور آکسیجن سپلائی متاثر ہونے سے جاں بحق ہوئے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے رکھی ہے، جسے 48 گھنٹوں میں عبوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    قانون و انصاف کے وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عبوری انکوائری رپورٹ آج دستیاب ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی آزادانہ طور پر کام کر رہی ہے اور ایک دن کے اندر کئی معاملات واضح ہو جائیں گے۔

    وزیر قانون کے مطابق اصل توجہ اس بات پر ہے کہ واقعے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی اس امر کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آگ لگنے کے بعد آکسیجن پر انحصار کرنے والے بچوں کو بچانے کے لیے آکسیجن سپلائی بند کرکے انہیں منتقل کرنے کا مناسب وقت موجود تھا یا نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ تکنیکی معاملات ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے سے قبل ان کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جانی چاہیے۔

    دریں اثنا، ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی نے پمز کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت چار افسران کے تحریری بیانات حاصل کر لیے ہیں اور پمز کے طبی انتظامی عملے سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔

    کمیٹی نے نرسری کے عملے کے بیانات، واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج، 26 اگست کی ڈیوٹی روسٹر اور فائر بریگیڈ و ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹس بھی حاصل کرلی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق کمیٹی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے کر اسے انتظامیہ کی جانب سے آگ لگنے کے واقعے کی بیان کردہ وجوہات سے بھی ملا رہی ہے۔

    کمیٹی وزیراعظم کو 48 گھنٹوں کے اندر عبوری تحقیقاتی رپورٹ پیش کرے گی۔

مزید خبریں