ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ کارروائی امریکی فوج کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی جنگی بحری جہاز پر حملوں کی کوشش کے جواب میں پانچ ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ سے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے سے متعلق پوچھا گیا تو ترجمان نے کہا کہ اس حوالے سے فوری طور پر کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق تباہ کیے گئے ایرانی ٹینکروں میں ’کیوک‘، ’چار مینار‘، ’ہورائزن‘ اور ’ریسکو‘ شامل ہیں، جو خلیج عمان میں موجود تھے۔ ’دیریا‘ نامی ایک اور ٹینکر کو آبنائے ہرمز کے قریب نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں سے قبل پانچوں بحری جہازوں کے عملے کو جہاز چھوڑنے کی ہدایت کردی گئی تھی۔

یہ حملے اس واقعے کے صرف تین روز بعد ہوئے ہیں جس میں امریکی فورسز نے تین ایرانی ٹینکروں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس سے قبل ایران کی پاسداران انقلاب نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک ڈیسٹرائر پر حملے کی کوشش کی تھی۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نے بھی امریکی حملوں کی اطلاع دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی فوج نے جنوبی بندرگاہ جاسک اور خلیج فارس میں جزیرہ خارک کے قریب کم از کم تین ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق ٹینکروں کے عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ہر حملے کا جواب دیتا رہے گا۔ کولمبیا کے دورے کے دوران ایران پر تازہ حملوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایران جب بھی امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا تو اسے ایک ٹینکر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں ایسا ردعمل دوبارہ بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز سے وابستہ ایران امور کے ماہر ڈینی سیٹرینووچ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف جوابی کارروائیاں عالمی معیشت پر مزید منفی اثرات ڈال سکتی ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ آبنائے ہرمز کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، طاقت کے ذریعے اسے حل کرنے کی کوشش واشنگٹن اور تہران کو ایسی کشیدگی کی طرف لے جا سکتی ہے جس پر قابو پانا مشکل ہوگا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی سے وابستہ ایک رپورٹر کے مطابق یکبینی کے ساحل کے قریب ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ علاقے میں ایک اور زور دار دھماکے کی آواز بھی سنی گئی، تاہم فوری طور پر دھماکے کے مقام کی تصدیق نہیں ہوسکی۔