عرب نیوز کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں کے باعث نبطیہ، خصوصاً علی الطاہر کے علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، جسے مقامی افراد نے ’آگ کا دائرہ‘ قرار دیا ہے۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق علی الطاہر کے شمال میں دریائے لیطانی کے قریب واقع گنجان آباد قصبے کفر رمان میں ایک رہائشی مکان پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو بچے اور چار خواتین شامل ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق زخمیوں میں تین بچے اور ایک طبی کارکن بھی شامل تھا، جو بعدازاں اسی قصبے میں ایک گاڑی پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوگیا۔
اتوار کو اسرائیلی فوج نے عرب سلیم، کفر رمان، نبطیہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میفدون، الکفور اور الرمادیہ کو بھی نشانہ بنایا، جہاں حملوں کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوئے۔
یہ حملے جمعے کی شب سے ہفتے تک جاری رہنے والے حملوں کے ایک سلسلے کے بعد کیے گئے۔ ان ابتدائی حملوں میں چار افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
لبنان کے وزیر محنت محمد حیدر نے وزارت کی کارکن حبہ علی صباح کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔ وہ پیر کی صبح اپنے شوہر اور بیٹی کے ہمراہ کفر رمان میں ایک رہائشی عمارت پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوئیں۔
محمد حیدر کے مطابق حملے میں حبہ علی صباح کے شوہر کا بھائی، ان کی اہلیہ اور سسر بھی ہلاک ہوئے۔ لبنانی وزیر محنت نے حملے کو ’لبنانی شہریوں کے خلاف اسرائیلی جرائم کی فہرست میں ایک اور اضافہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رہائشی علاقوں پر حملوں کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
پیر کو جنوبی لبنان میں المنصوری اور حولا کے علاقوں میں بھی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جہاں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں متعدد مکانات تباہ ہوئے۔
اتوار اور پیر کی درمیانی شب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے علاقے دیر الزہرانی میں ایک عمارت خالی کرنے کی وارننگ جاری کی، جس کے تقریباً 22 منٹ بعد عمارت کو تباہ کردیا گیا۔
تازہ حملوں کے بعد، جنہیں لبنان میں جاری نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے، نبطیہ اور دیگر علاقوں سے ایک بار پھر شہریوں کی نقل مکانی شروع ہوگئی ہے۔
اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی ’کھلی خلاف ورزی‘ کے جواب میں کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ نے اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی جانب دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون بھیجے، جس کے بعد اسرائیلی فوج نے تنظیم کے خلاف کارروائی کی۔
اس سے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت قبل اسرائیلی فوج نے نبطیہ میں وزارت خزانہ کی عمارت اور غیندور ہسپتال کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
لبنان کے وزیر محنت محمد حیدر نے ان حملوں کو ’تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی حملوں اور مبینہ جرائم کو روکنے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔







