گورنر ہاؤس کراچی کے باہر پیٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف جاری دھرنے کے 24ویں روز عظیم الشان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے 32 شہروں میں دھرنے جاری ہیں، جماعت اسلامی پورے ملک میں ظلم اور ناانصافی کے خلاف عوام کو متحرک کررہی ہے۔

انہوں نے کراچی کے عوام اور منعم ظفر خان سمیت دھرنے کے شرکا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 24 دن گزرنے کے باوجود لوگ اسی جذبے اور حوصلے کے ساتھ موجود ہیں۔ جماعت اسلامی دھرنوں اور ہڑتالوں سے تھکنے والی نہیں بلکہ اس کے بعد مزید فعال ہوجاتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ موجودہ حکومت ڈھٹائی کا مظاہرہ کررہی ہے اور جماعت اسلامی بھی اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔ حکمران سمجھتے ہیں کہ دھرنوں سے لوگ تھک جائیں گے، لیکن عوام ظالموں کے اتحاد کے خلاف متحد ہوچکے ہیں۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گزشتہ رات حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 13 روپے اضافہ کیا، حکومت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بناتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوں تو کیا حکومت اسی تناسب سے پٹرول سستا کرتی ہے؟

انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اپنی جگہ، تاہم پیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے اضافی رقم وصول کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ پہلے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے نام سے اربوں روپے وصول کیے گئے، اب ڈویلپمنٹ کا لفظ ہٹا کر صرف لیوی کے نام پر وصولی کی جارہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کا مسئلہ صرف جماعت اسلامی یا حافظ نعیم الرحمان کا نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا مسئلہ ہے۔ پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں اور مہنگائی سے ہر فرد متاثر ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مڈل کلاس بھی غریب ہوتی جارہی ہے، لوگ پریشان ہیں کہ گھر کا کرایہ دیں یا بچوں کی اسکول فیس ادا کریں، جب کہ حکومت نے تاجروں کو بھی نہیں چھوڑا اور انہیں بھی مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہر حکومت اقتدار میں آنے سے پہلے کہتی ہے کہ آئی ایم ایف نے ملک کو برباد کردیا اور اقتدار میں آنے کے بعد اسی آئی ایم ایف سے رابطے شروع کردیتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے 24ویں پروگرام میں داخل ہوچکا ہے اور آئی ایم ایف ٹیکس پالیسی سمیت مختلف معاملات میں شرائط عائد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس سیکڑوں مربع زمینیں ہیں وہ معمولی ٹیکس ادا کرتے ہیں، جب کہ عام آدمی پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا جارہا ہے۔ ملک کا نظام عوام کو تعلیم اور روزگار فراہم نہیں کرتا، اسی وجہ سے لوگ بائیکیا چلانے پر مجبور ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بائیکیا چلانے والا دن بھر محنت کرنے کے بعد بھی پیٹرولیم لیوی کی صورت میں رقم ادا کرتا ہے، جب کہ ارب پتی اور کھرب پتی بھی اسی نظام کے تحت بوجھ کا سامنا کرتے ہیں۔

انہوں نے حکمرانوں کے اخراجات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف عوام مہنگائی سے پریشان ہیں اور دوسری جانب قومی کانفرنس کے لیے بڑی بڑی گاڑیاں خریدنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ موجودہ نظام عوام پر ظلم کررہا ہے۔

مریم نواز کے طیارے سے متعلق حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا طیارہ 11 ارب روپے کا ہے، جب کہ نواز شریف جس طیارے میں لندن گئے تھے وہ اس سے بھی زیادہ قیمتی تھا۔ پورا نظام کرپٹ اور نااہل ہے اور اس کا سارا بوجھ عوام پر ڈالا جارہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، حکومتی کمیٹی کو اپنی تجاویز پیش کی ہیں اور یہ تجاویز ہوائی باتیں نہیں بلکہ عملی اور زمینی حقائق پر مبنی ہیں۔ حکومتی کمیٹی نے 3 دن بعد جواب دینے کا کہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دھرنے اور جدوجہد جاری رہے گی، حکومت کو پیٹرولیم لیوی ختم کرنا ہوگی اور عوام پر عائد غیرضروری ٹیکسز کا بوجھ بھی کم کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: بھتہ ٹیکس کے خلاف جماعتِ اسلامی کی تحریک، سندھ اسمبلی میں پیٹرولیم لیوی کے خلاف قرارداد منظور

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ انہوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین سے بھی بات کی ہے، جنہوں نے دھرنے کی حمایت اور شرکت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد میں شامل ہوں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کا پلیٹ فارم عوام کی میزبانی کے لیے ہے، تمام سیاسی جماعتیں اور عوام اس جدوجہد کا ساتھ دیں۔ قوم بے حس نہیں بلکہ موجودہ نظام نے اسے بے حس بنا دیا ہے۔

کراچی کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام جماعت اسلامی کا میئر چاہتے تھے لیکن قبضہ کرکے دوسرا میئر بٹھا دیا گیا، جب کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ایسے لوگوں کو لایا جاتا ہے جنہوں نے ایک پولنگ اسٹیشن بھی نہیں جیتا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد صرف پیٹرولیم لیوی کے خلاف نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کے خلاف ہے جو عوام کو بنیادی حقوق، تعلیم، روزگار اور معاشی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے جاری رہیں گے اور اگر حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو تحریک کو مزید وسیع کیا جائے گا۔