کابینہ اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ترکیہ مشکل جغرافیائی حالات کے باوجود اپنی قومی ترجیحات اور مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، کسی بھی قوت کو ترکیہ کی ترقی اور آزادانہ فیصلوں کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ترک صدر نے واضح کیا کہ انقرہ کسی ملک، معاشرے، مذہب یا ثقافت کے خلاف نہیں، تاہم ترکیہ کے خلاف کسی بھی دشمنانہ اقدام کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ایردوان کا کہنا تھا کہ ترکیہ خطے میں امن، استحکام اور تعاون کا خواہاں ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک اپنی سلامتی اور قومی مفادات سے دستبردار ہوجائے، ترکیہ اپنے اردگرد ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے گا۔

ترک صدر نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری بحرانوں کے اثرات صرف ایک ملک یا علاقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔

انہوں نے موجودہ علاقائی کشیدگی کا ذمہ دار اسرائیلی پالیسیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے اختیار کیے جانے والے اقدامات نے خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھایا ہے۔

ایردوان نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے غلط معلومات اور تخریبی کارروائیوں کے ذریعے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ ایسے اقدامات خطے میں امن اور سفارتی کوششوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔

ترک صدر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے صرف وقتی اقدامات کافی نہیں بلکہ ان پالیسیوں اور سوچ میں تبدیلی لانا ہوگی جو امن کے معمولی امکانات کو بھی اپنے لیے خطرہ تصور کرتی ہیں۔

ان کے مطابق جب تک طاقت کے استعمال، کشیدگی اور محاذ آرائی کو ترجیح دینے والی سوچ موجود رہے گی، خطے میں بحرانوں کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکے گا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ترکیہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا اور تمام فریقوں پر زور دے گا کہ تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور معاشی ترقی کے تحفظ کے ساتھ ایک آزاد اور خوشحال ریاست کے طور پر آگے بڑھنے کے عزم پر قائم ہے اور کسی بھی دباؤ کو اس سفر میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔