سوال یہ ہے کہ یہ منصوبہ کیا تھا، کب شروع ہوا، کس نے بنایا، اسرائیل نے اسے کیوں تباہ کیا اور یہ معاملہ 19 سال تک حل کیوں نہ ہوسکا؟
کہانی کہاں سے شروع ہوئی؟
شام کی ایٹمی سرگرمیوں کی کہانی نئی نہیں۔ شام 1963 میں آئی اے ای اے کا رکن بنا اور بعد میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت اپنے جوہری مواد کو بین الاقوامی سیف گارڈز کے دائرے میں رکھنے پر رضامند ہوا۔ شام نے آئی اے ای اے کے ساتھ سیف گارڈز معاہدہ 1992 میں نافذ کیا۔
یہی سیف گارڈز دراصل وہ نظام ہے جس کے ذریعے آئی اے ای اے یہ جانچتا ہے کہ کسی ملک کا جوہری مواد اور تنصیبات پُرامن مقاصد کے لیے استعمال ہورہی ہیں یا انہیں خفیہ طور پر جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی طرف تو نہیں لے جایا جارہا۔
لیکن شام میں ایک ایسی تنصیب موجود تھی جس کے بارے میں عالمی ادارے کو بروقت اطلاع نہیں دی گئی۔
آئی اے ای اے کیا ہے اور اسے یہ اختیار کہاں سے ملتا ہے؟
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی یعنی آئی اے ای اے ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا قیام 1957 میں ہوا۔ اس کی بنیاد امریکی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور کی 1953 کی مشہور 'ایٹمز فار پیس' تقریر کے بعد رکھی گئی۔
ادارے کا بنیادی مقصد دنیا میں جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کو فروغ دینا اور اس بات کی نگرانی کرنا ہے کہ جوہری مواد اور ٹیکنالوجی کو خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
اس کا صدر دفتر ویانا، آسٹریا میں ہے، یعنی آئی اے ای اے خود کوئی فوجی یا انٹیلی جنس ادارہ نہیں۔ یہ بنیادی طور پر انشپیکشن، ویریفیکیشن، سیف گارڈز اور نیوکلیئر سیفٹی کے ذریعے کام کرتا ہے۔
شام کے معاملے میں بھی اصل سوال یہی تھا کہ کیا وہاں جوہری سرگرمی ہورہی تھی اور اگر ہورہی تھی تو کیا اسے آئی اے ای اے کو باقاعدہ طور پر رپورٹ کیا گیا تھا؟
دیر الزور کا ری ایکٹر
شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں ایک عمارت زیرِ تعمیر تھی۔ بعد میں اسے الکِبر (Al-Kibar) ری ایکٹر کے نام سے جانا گیا۔
2007 میں اسرائیل نے اس مقام پر فضائی حملہ کیا اور عمارت کو تباہ کردیا۔ اس وقت شام نے اس تنصیب کو جوہری ری ایکٹر قرار دینے سے انکار کیا۔ لیکن حملے کے بعد معاملہ ختم نہیں ہوا۔
2008 میں آئی اے ای اے نے شام میں موجود اس مقام کا دورہ کیا۔ ماحولیاتی نمونوں میں قدرتی یورینیم کے ایسے ذرات ملے جو انسانی کیمیائی عمل کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے۔ ایجنسی نے مزید معلومات اور رسائی مانگی، لیکن شام نے مکمل تعاون نہیں کیا۔
آئی اے ای اے کو شک کیوں ہوا؟
آئی اے ای اے کی 2011 کی تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مقام کی جغرافیائی اور تعمیراتی خصوصیات ایک جوہری ری ایکٹر کے لیے موزوں تھیں۔
وہاں دریائے فرات کے قریب پانی کی دستیابی، کم آبادی والا علاقہ اور عمارت کی ساخت سمیت کئی ایسے عناصر موجود تھے جو عام طور پر ری ایکٹر کے مقام کے انتخاب میں دیکھے جاتے ہیں۔
ماحولیاتی نمونوں میں قدرتی یورینیم، گریفائٹ اور مخصوص اقسام کا اسٹین لیس اسٹیل بھی ملا۔ آئی اے ای اے کے مطابق یہ شواہد گیس کولڈ، گریفائٹ ماڈریٹڈ ری ایکٹر سے مطابقت رکھتے تھے۔
2011 میں آئی اے ای اے نے نتیجہ اخذ کیا کہ دیر الزور میں تباہ ہونے والی عمارت بہت زیادہ امکان کے ساتھ ایک جوہری ری ایکٹر تھی جسے شام کو ادارے کے سامنے ظاہر کرنا چاہیے تھا۔

شمالی کوریا کا تعلق کیا تھا؟
اس پورے معاملے میں شمالی کوریا کا نام بھی بار بار سامنے آیا۔ اس وقت یہ شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ شام نے شمالی کوریا کی مدد سے ایسے ری ایکٹر کی تعمیر کی جو پلوٹونیم پیدا کرنے کے قابل ہوسکتا تھا۔
واضح رہے کہ آئی اے ای اے نے شمالی کوریا کے مبینہ کردار کو حتمی طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا۔ موجودہ تحقیقات میں بھی آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے واضح کیا ہے کہ انہیں اس مرحلے پر شمالی کوریا کے مبینہ روابط کے بارے میں فیصلہ دینے کا مینڈیٹ نہیں دیا گیا۔
2011 میں معاملہ مزید سنگین ہوگیا
جون 2011 میں آئی اے ای اے کے 'بورڈ آف گورنرز' نے شام کے خلاف قرارداد منظور کی۔ بورڈ نے قرار دیا کہ شام کی جانب سے دیر الزور میں جوہری ری ایکٹر کی تعمیر کو ظاہر نہ کرنا اور اس کے بارے میں ضروری ڈیزائن معلومات فراہم نہ کرنا اس کے سیف گارڈز اوبلیگیشنز کی خلاف ورزی تھی۔
آئی اے ای اے نے شام سے مطالبہ کیا کہ وہ متعلقہ معلومات، مقامات، مواد اور افراد تک رسائی دے تاکہ ادارہ یہ طے کرسکے کہ شام کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن تھا یا نہیں۔ لیکن شام نے طویل عرصے تک مطلوبہ تعاون نہیں کیا اور یوں یہ معاملہ عالمی جوہری نگرانی کے سب سے پرانے غیر حل شدہ کیسز میں شامل ہوگیا۔
2024 میں کیا بدلا؟
دسمبر 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں سیاسی تبدیلی آئی۔ نئی شامی حکومت نے آئی اے ای اے کے ساتھ دوبارہ تعاون کا راستہ اختیار کیا۔
آئی اے ای اے کے مطابق مارچ 2024 میں ہی شام اور ادارے کے درمیان ماضی کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق غیرحل شدہ سیف گارڈز مسائل پر دوبارہ انگیجمنٹ شروع ہوچکی تھی۔
2024 میں ایجنسی نے شام میں متعلقہ تین مقامات کے بارے میں تحقیقات آگے بڑھائیں اور دو مقامات سے نمونے حاصل کیے، جب کہ اکتوبر 2024 میں تیسرے مقام کا بھی دورہ کیا گیا۔
بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد یہ تعاون مزید بڑھا۔ جون 2025 میں آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے دمشق میں صدر احمد الشرع سے ملاقات کی، جس کے بعد شام نے ماضی کی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں مکمل شفافیت کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کی اور یہی وہ موڑ تھا جہاں تقریباً دو دہائیوں سے بند دروازے دوبارہ کھلنے لگے۔

73 ٹن یورینیم کہاں سے آیا؟
تازہ تحقیقات میں آئی اے ای اے نے شام میں ایک متعلقہ مقام پر تقریباً 73 میٹرک ٹن قدرتی یورینیم میٹل کی موجودگی کی تصدیق کی۔ اس میں تقریباً 55 ٹن یورینیم فیول راڈز کی شکل میں تھا، جب کہ باقی مواد یورینیم کے اسکریپ اور فضلے کی صورت میں تھا۔
تازہ رپورٹ کے مطابق یہ تمام مواد اب آئی اے ای اے کی کنٹینمنٹ اور سرویلینس کے تحت ہے۔ یہ 73 ٹن انریچڈ یورینیم نہیں تھا۔ یعنی یہ وہ اعلیٰ افزودہ یورینیم نہیں جسے براہِ راست جوہری ہتھیار میں استعمال کرنے کے لیے درکار سمجھا جاتا ہے۔
یہ قدرتی یورینیم تھا، جسے ری ایکٹر کے ایندھن کے طور پر تیار کیا گیا تھا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں مواد ایک ایسے خفیہ منصوبے سے منسلک نکلا جسے سابق شامی حکام نے آئی اے ای اے کو ظاہر نہیں کیا تھا۔
شام میں صرف ری ایکٹر نہیں تھا
تازہ تحقیقات نے معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ آئی اے ای اے کے مطابق شام میں صرف ری ایکٹر کی تعمیر ہی نہیں ہورہی تھی بلکہ اس کے لیے فیول فیبریکیشن یعنی جوہری ایندھن تیار کرنے کی سرگرمی بھی موجود تھی۔
آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ سابق شامی حکام نے ان تنصیبات، جوہری مواد اور سرگرمیوں کو اس وقت ادارے کے سامنے ظاہر نہیں کیا تھا جب انہیں ظاہر کرنا ضروری تھا۔
کیا شام ایٹم بم بنانے کے قریب تھا؟
یہ سوال سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ حساس بھی ہے۔ آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے 7 ستمبر 2026 کو کہا کہ 2007 میں اسرائیلی حملے سے تباہ ہونے والا ری ایکٹر تقریباً مکمل ہوچکا تھا۔
ان کے مطابق یہ ایسا ری ایکٹر تھا جو fissile material پیدا کرنے میں مؤثر ہوسکتا تھا اور ایسا مواد جو آگے چل کر جوہری ہتھیار بنانے میں استعمال ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آئی اے ای اے نے یہ ثابت کردیا ہے کہ شام نے ایٹم بم تیار کرلیا تھا یا اس وقت اس کے پاس مکمل جوہری ہتھیار موجود تھا۔
گروسی نے خود اس فرق کو برقرار رکھا اور کہا کہ اُس وقت کی شامی حکومت کے حتمی ارادوں کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔
اسرائیل نے 2007 میں حملہ کیوں کیا؟
اس وقت اسرائیل کو شبہ تھا کہ دیر الزور میں زیرِ تعمیر تنصیب ایک خفیہ جوہری ری ایکٹر ہے، اسرائیل نے ستمبر 2007 میں فضائی حملہ کرکے اسے تباہ کردیا۔
یہ کارروائی اس لیے غیر معمولی تھی کہ آئی اے ای اے کو اس وقت تک مکمل تحقیقات کا موقع نہیں ملا تھا۔ بعد میں ادارے نے مقام کا معائنہ کیا اور کئی سال تک شواہد اکٹھے کرتا رہا۔
2011 میں آئی اے ای اے نے کہا کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ عمارت بہت زیادہ امکان کے ساتھ ایک جوہری ری ایکٹر تھی اور اسے شام کو آئی اے ای اے کے سامنے ظاہر کرنا چاہیے تھا۔
19 سال بعد راز کیسے کھلا؟
اس پوری کہانی میں سب سے دلچسپ موڑ شام کی نئی حکومت کا تعاون ہے۔ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام نے آئی اے ای اے کو ان مقامات، دستاویزات اور جوہری مواد تک رسائی دی جو پہلے دستیاب نہیں تھے۔
نتیجتاً ایجنسی نے نہ صرف دیر الزور کے ری ایکٹر کے بارے میں اپنے پرانے شواہد کی دوبارہ تصدیق کی بلکہ متعلقہ مقامات پر موجود جوہری مواد اور ایندھن کی تیاری کے نظام کے بارے میں بھی زیادہ واضح تصویر حاصل کرلی۔
تازہ ترین رپورٹ میں آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ شام سے ضروری معلومات اور رسائی ملنے کے بعد ادارہ ماضی کی ان سیف گارڈز تشویشات کو واضح اور حل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔
73 ٹن یورینیم کا کیا ہوگا؟
فی الحال یہ مواد شام ہی میں موجود ہے اور عالمی توانائی ایجنسی کی نگرانی اور روک تھام کے اقدامات کے تحت ہے۔ یعنی اسے کسی دوسرے ملک منتقل کرنے کی اطلاع نہیں ہے۔
بنیادی پیش رفت یہ ہے کہ عالمی جوہری ادارے نے اس مواد کی موجودگی، نوعیت اور سابقہ خفیہ جوہری سرگرمیوں سے اس کے تعلق کی تصدیق کرلی ہے۔
اس پوری کہانی کا خلاصہ کیا ہے؟
شام کی یہ کہانی صرف 73 ٹن یورینیم کی کہانی نہیں۔ یہ ایک ایسے خفیہ جوہری منصوبے کی داستان ہے جس کے آثار تقریباً دو دہائیاں پہلے سامنے آئے، جس کا مرکزی ری ایکٹر 2007 میں اسرائیلی حملے میں تباہ ہوگیا۔
جس کے بارے میں آئی اے ای اے نے 2011 میں شام کو عدم تعمیل کا ذمہ دار قرار دیا، لیکن جس کی مکمل تصویر اس وقت سامنے آئی جب بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد نئی شامی حکومت نے عالمی جوہری ادارے کو زیادہ رسائی اور معلومات فراہم کیں۔
اب عالمی توانائی ایجنسی کے پاس اس معاملے میں پہلے سے کہیں زیادہ واضح تصویر ہے، دیر الزور میں ایک خفیہ ری ایکٹر زیرِ تعمیر تھا، اس کے لیے شام میں ایندھن تیار کیا جارہا تھا، تقریباً 73 ٹن قدرتی یورینیم سے متعلق مواد موجود تھا، اور سابق شامی حکام نے ان سرگرمیوں کو آئی اے ای اے کے سامنے ظاہر نہیں کیا تھا۔
لیکن ایک سوال اب بھی مکمل طور پر جواب طلب ہے کہ بشار الاسد حکومت آخر یہ پورا پروگرام کیوں چھپا رہی تھی اور اس کا آخری مقصد کیا تھا؟
عالمی تونائی ایجنسی کے موجودہ سربراہ رافیل گروسی کے مطابق یہی وہ نکتہ ہے جس پر قطعی فیصلہ دینا ممکن نہیں۔ تاہم اتنا ضرور واضح ہوچکا ہے کہ یہ معاملہ محض ایک خالی عمارت یا بے ضرر تنصیب کا نہیں تھا؛ یہ ایک ایسا جوہری منصوبہ تھا جو اگر مکمل ہوجاتا تو خطے کے عدم پھیلاؤ اور سلامتی کے لیے انتہائی سنگین سوالات پیدا کرسکتا تھا۔







