برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ منگل کو ہاؤس آف کامنز میں اس اقدام کا اعلان کریں گے۔ یہ فیصلہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے سے متعلق برطانیہ کی پالیسی میں سخت مؤقف اختیار کرنے کے سلسلے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی حکومت کا یہ اقدام مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے متنازع منصوبوں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔ اسرائیل نے حال ہی میں ای ون (E1) سیٹلمنٹ منصوبے کے تحت تقریباً 1200 گھروں کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کیے تھے۔
ایڈ ملی بینڈ نے ان منصوبوں کو ’ناقابل قبول اور تباہ کن اقدام‘ قرار دیتے ہوئے کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔ انہوں نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ برطانیہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے جواب میں جامع اقدامات کا پیکیج پیش کرے گا، جس میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع میں ملوث افراد پر پابندیاں بھی شامل ہوں گی۔
برطانوی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کا تحفظ اور اسرائیلیوں و فلسطینیوں کے لیے منصفانہ اور پائیدار امن کی حمایت کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے اس ممکنہ اقدام پر امریکا کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ اخبار ’دی ٹائمز‘ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس فیصلے کی مذمت میں بیان جاری کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنم نے پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران ان منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق وزیراعظم نے خطے میں امن و سلامتی کے لیے کام کرنے کے برطانیہ کے عزم کا اعادہ کیا اور دو ریاستی حل کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکبی نے گزشتہ دنوں برطانوی حکومت پر ’یہود دشمنی‘ کا الزام عائد کیا تھا۔
مائیک ہکبی نے یہ ردعمل اس وقت دیا جب ایڈ ملی بینڈ نے غزہ میں کام کرنے والے افراد کی جانب سے موصول ہونے والی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ضروری ادویات روکی جا رہی ہیں اور بچے جان بچانے والے علاج کے انتظار میں ہلاک ہو رہے ہیں۔
ہکبی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے برطانوی حکومت کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے حقائق سے عاری قرار دیا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے منصوبوں پر پابندیاں عائد کیں تو اسرائیل بھی برطانیہ کے خلاف کارروائی کرے گا۔
گیڈون ساعر نے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف کسی بھی اقدام کو وہ ’بہت بڑی غلطی‘ سمجھیں گے۔
حماس کی قیادت میں 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملوں کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف تشدد، زمینوں پر قبضے اور پانی کے وسائل پر کنٹرول کے واقعات میں اضافے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد کو فلسطینی برادریوں کے لیے ’تباہ کن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بستیوں کی توسیع اور زمینی حقائق میں ناقابل واپسی تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں امن، سلامتی اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کے لیے خطرہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ دو ریاستی حل کی تباہی کو خاموشی سے قبول نہیں کرے گا۔
دریں اثنا یوگوو کے ایک سروے کے مطابق 50 فیصد برطانوی شہری مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ 16 فیصد نے ایسے اقدام کی مخالفت کی۔







