سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس کے آغاز پر شہزادہ محمد بن سلمان نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور یونان کے وزیراعظم کیریاکوس مٹسوٹاکس کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور بات چیت کے بارے میں کابینہ کو آگاہ کیا۔
کابینہ نے سعودی عرب کے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کی۔ اجلاس میں بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
سعودی کابینہ نے واضح کیا کہ مملکت اپنی خودمختاری، شہریوں اور مقیم افراد کی سلامتی اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں فلسطین اور مقبوضہ علاقوں کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ سعودی کابینہ نے اسرائیلی حملوں اور خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے عرب ممالک کی مشترکہ کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا اور فلسطینی علاقوں میں توسیع پسندانہ پالیسیوں، آبادکاری اور جبری بے دخلی کی مخالفت کی۔
کابینہ نے سعودی عرب اور جرمنی کے درمیان اسٹریٹجک مذاکرات کے قیام سے متعلق مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیا۔ اجلاس میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور تعاون کے کئی دیگر معاہدوں کی بھی منظوری دی گئی۔
سعودی کابینہ نے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں LEAP 2026 کے نتائج کو بھی سراہا، جس کے دوران تقریباً 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، معاہدوں اور اقدامات کا اعلان کیا گیا۔
اجلاس میں سعودی عرب اور اسپین کے درمیان سفارتی، خصوصی اور سروس پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے باہمی ویزا استثنیٰ کے معاہدے سمیت سوئٹزرلینڈ کے ساتھ سرمایہ کاری کے فروغ اور تحفظ کے معاہدے کی بھی منظوری دی گئی۔







