امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے باضابطہ اعلان سے قبل جاری بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی فوجداری عدالت کو امریکی شہریوں کے خلاف مقدمات چلانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے عدالت کو ’روگ کورٹ‘ یعنی سرکش عدالت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا آئی سی سی کے ساتھ تمام مالیاتی لین دین پر پابندی عائد کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن عدالت کو وسائل کی فراہمی روک کر اس کی کام کرنے کی صلاحیت مفلوج کرنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ طویل عرصے سے عالمی فوجداری عدالت کے خلاف سخت مؤقف رکھتی ہے اور اس اقدام سے قبل بھی عدالت کے بعض پراسیکیوٹرز اور ججوں پر پابندیاں عائد کر چکی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی پابندیوں کے نتیجے میں عالمی فوجداری عدالت کو امریکی کمپنیوں کی خدمات، بینک اکاؤنٹس، انشورنس کوریج اور سافٹ ویئر سروسز کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عدالت کو خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی ممکنہ طور پر امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عالمی فوجداری عدالت کی ڈپٹی پراسیکیوٹر نذہت شمیم خان نے امریکی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی اور ایک آزاد عدالتی ادارے کے کام کو نقصان پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت ان تمام اقدامات کے باوجود اپنی تحقیقات اور کارروائیاں جاری رکھے گی۔
یاد رہے کہ عالمی فوجداری عدالت کا قیام 2002 میں عمل میں آیا تھا، جس کا مقصد جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی جیسے سنگین بین الاقوامی جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنا ہے۔
عدالت کے رکن ممالک کی تعداد 125 ہے، جن میں یورپی یونین کے تمام ممالک اور امریکا و ترکیہ کے سوا نیٹو کے تمام رکن ممالک شامل ہیں۔ عدالت کا صدر دفتر نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں واقع ہے، جو یورپی یونین اور نیٹو دونوں کا رکن ملک ہے۔
یہ عدالت مختلف ممالک کے صدور، وزرائے اعظم اور دیگر رہنماؤں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کر چکی ہے۔ نومبر 2024 میں آئی سی سی نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
مارچ 2023 میں عدالت نے یوکرین سے بچوں کی مبینہ غیر قانونی منتقلی کے معاملے پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے خلاف بھی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔
واشنگٹن طویل عرصے سے عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے اسرائیلی حکام، بالخصوص وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ جاری کیے جانے پر تنقید کرتا آیا ہے۔
امریکا کو افغانستان میں امریکی فوجیوں کے حوالے سے عدالت کی سابقہ تحقیقات پر بھی اعتراض رہا ہے، تاہم یہ تحقیقات اب بند کی جا چکی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی عالمی فوجداری عدالت کے بعض عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں، جنہیں بعد ازاں صدر جو بائیڈن کے دور میں ختم کردیا گیا تھا۔ جنوری 2025 میں ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے چند روز بعد واشنگٹن نے عدالت کے بعض عہدیداروں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔
امریکی پابندیوں کے اعلان سے قبل نوبیل انعام کمیٹی نے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی قانون دان ناوی پِلے کو ان کی خدمات کے اعتراف میں نوبیل امن انعام دینے کا اعلان کیا۔ وہ 2003 سے 2008 تک عالمی فوجداری عدالت کے اپیلز چیمبر میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں۔
ناوی پِلے اقوام متحدہ کے اس انکوائری کمیشن کی سربراہی بھی کر چکی ہیں جسے مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل میں بین الاقوامی انسانی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں اور نسل پرستی کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اسرائیل کو غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا ذمہ دار قرار دیا اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
ناوی پِلے کو نوبیل امن انعام دینے کے فیصلے پر اسرائیلی حکومت نے تنقید کرتے ہوئے اسے اسرائیل مخالف قرار دیا ہے۔
امریکی پابندیوں اور نوبیل امن انعام کے اعلان کا ایک ہی روز سامنے آنا عالمی قانون، عدالتی آزادی اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات پر امریکا، عالمی فوجداری عدالت اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کو نمایاں کرتا ہے۔







