غیر ملکی میڈیا کے مطابق فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور تعلقات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی پیش رفت آسان نہیں، کیونکہ مذاکراتی عمل متعدد پیچیدگیوں کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت مشکل ہونے کی پہلی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایرانی حکام سخت مؤقف اختیار کرتے ہیں اور مذاکرات میں لچک کم دکھاتے ہیں۔ دوسری جانب ایران کا داخلی سیاسی ڈھانچہ بھی مختلف دھڑوں میں تقسیم نظر آتا ہے، جس کے باعث کسی ایک مؤقف پر اتفاق رائے قائم کرنا آسان نہیں ہوتا۔

امریکی نائب صدر کے مطابق ایران میں ایک حلقہ ایسا موجود ہے جو موجودہ کشیدگی کو ختم کرکے سفارتی حل چاہتا ہے، جبکہ ایک دوسرا طاقتور گروہ تنازع کو جاری رکھنے کا حامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی اندرونی اختلافات مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کے مفادات کا تحفظ اور صدر کے لیے بہترین ممکنہ نتائج حاصل کرنا ہے، اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکا ہر فیصلہ قومی سلامتی اور خطے کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے گا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام مشکلات کے باوجود ایران کے ساتھ تنازع کا پرامن حل ممکن ہے، تاہم یہ ایک طویل اور صبر آزما عمل ہوگا، سفارتی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے وقت درکار ہوگا، لیکن امریکا اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

امریکی نائب صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ آنے والے عرصے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور قیمتیں نسبتاً کم رہیں گی، انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اپنے اس مؤقف پر قائم ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے فوجی، اقتصادی اور سفارتی تمام ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں، تاکہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کا ایسا حل نکالا جا سکے جو خطے اور عالمی امن کے لیے مؤثر ثابت ہو۔