غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ سطح پر مختلف امور پر بات چیت جاری ہے، جس کا مقصد موجودہ کشیدگی میں کمی لانا اور مستقبل میں کسی ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی راستہ کھلا رکھنا ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان اور قطر اس عمل میں اہم ثالثی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دونوں ممالک سفارتی رابطوں کے ذریعے ایران اور امریکا کو دوبارہ باضابطہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہیں تاکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ دنوں ایران اور امریکا کے تعلقات میں ایک بار پھر تناؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے گزشتہ دو روز کے دوران ایران سے متعلق فوجی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔
Technical talks between the US and Iran are continuing, according to a US official, following two days of clashes that threatened to shatter an already fragile ceasefire between the two nations.
— Giovanni Staunovo🛢 (@staunovo) July 10, 2026
The US is still committed to finding a solution with Iran, the official said…
دوسری جانب ایران نے بھی جوابی اقدامات کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جس سے مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو کے سربراہ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا تھا، وہ اس وقت ایران کے ساتھ کسی نئے معاہدے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور ان کے بقول ایران کے ساتھ جنگ بندی بھی ختم ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں: ہم بد زبانی کا جواب بد زبانی سے نہیں، عملی اقدام سے دیتے ہیں: عباس عراقچی
صدر ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں استعمال کرنے سے گریز نہ کرتا، اسی لیے وہ موجودہ حالات میں تہران کے ساتھ مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔
واضح رہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان بیانات اور فوجی سرگرمیوں کے باعث کشیدگی برقرار ہے، تاہم پسِ پردہ سفارتی رابطوں کا جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فریقین مکمل تصادم سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان اور قطر جیسے ممالک کی سفارتی کوششیں مستقبل میں کسی ممکنہ پیش رفت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔







