ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق غیر ملکی بحری جہازوں سے پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل پر وصول کی جانے والی 10 فیصد کارگو فیس کو فی الحال معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کارگو فیس کی معطلی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایرانی حکومت ان اشیاء کی فہرست جاری نہیں کردیتی جن پر اضافی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی سمندری راستے سے تیل کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
ایران کی جانب سے غیر ملکی جہازوں پر عائد 10 فیصد کارگو فیس معطل کیے جانے سے پیٹرولیم مصنوعات کی سمندری ترسیل میں سہولت پیدا ہونے کی توقع ہے، جبکہ اس اقدام سے غیر ملکی جہازوں کے ذریعے توانائی کی ترسیل پر عائد مالی دباؤ بھی کم ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فیس کی معطلی مستقل نہیں بلکہ عارضی نوعیت کی ہے اور اس کا اطلاق ایرانی حکومت کی جانب سے اضافی ٹیکس سے متعلق اشیاء کی فہرست جاری کیے جانے تک رہے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سمندری راستے سے تیل کی برآمدات متاثر ہونے کے باعث غیر ملکی جہازوں اور توانائی کی ترسیل سے متعلق معاملات میں دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے غیر ملکی تیل بردار جہازوں کو عارضی ریلیف دینے کے لیے کارگو فیس معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی تیل و گیس کی برآمدات بڑی حد تک سمندری راستوں سے وابستہ ہیں۔ ایسے میں غیر ملکی جہازوں کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل میں رکاوٹ یا اضافی اخراجات ایرانی برآمدات اور عالمی توانائی کی منڈی پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
حکام کی جانب سے نئی ٹیکس فہرست جاری کیے جانے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ کن اشیاء پر اضافی ٹیکس عائد کیا جائے گا اور غیر ملکی تیل بردار جہازوں کے لیے کارگو فیس کی نئی پالیسی کیا ہوگی۔







