سعودی، پاکستانی اور ایرانی ذرائع کے مطابق یہ کوشش خطے میں جاری بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے کی جا رہی ہے۔
حوثیوں نے منگل کو سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں ایک فضائی اڈے اور قریبی شہروں میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فروری میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکی اور اسرائیلی جنگ کے بعد سعودی عرب پر یہ حوثیوں کے بڑے حملوں میں سے ایک تھا۔
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے بدھ کو کہا کہ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف صوبوں میں 54 فضائی حملے کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا "جواب ضرور دیا جائے گا اور سزا بھی دی جائے گی۔"
پاکستان کا ایران کو واضح پیغام
پاکستان کی جانب سے ایران کو دی جانے والی تنبیہ اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اسلام آباد کے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دفاعی معاہدے ہیں۔
پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستانی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں ہونے والی جارحیت اس مشترکہ سکیورٹی انتظام کو فعال کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، "ایک ملک پر جارحیت کو تینوں ممالک پر جارحیت سمجھا جائے گا۔"
خواجہ آصف کے مطابق سعودی عرب میں بلا اشتعال جارحیت یا جنگ کا پھیلاؤ اس معاہدے کو عملی شکل دے سکتا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ دفاع، وزارتِ خارجہ اور فوج نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
پاکستان نے ایران سے حوثیوں کو روکنے کا کہا
ایک سینئر علاقائی سفارت کار کے مطابق پاکستان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کو پیغام پہنچایا اور تہران پر زور دیا کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے رکوانے کی کوشش کرے۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے تصدیق کی کہ پاکستان نے منگل کو تہران کو یہ پیغام پہنچایا۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق ایران کا جواب تھا کہ "ایران حوثیوں کو کنٹرول نہیں کرتا۔"
تاہم دو ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ تہران نے گزشتہ ہفتے حوثیوں کو سعودی عرب پر حملے کرنے کے لیے کہا تھا۔
ان ذرائع کے مطابق ایران نے حوثیوں کو مزید مالی معاونت اور ہتھیار فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا جبکہ پاسدارانِ انقلاب کے بعض کمانڈرز حملوں میں رابطہ کاری کے لیے یمن گئے تھے۔
ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
پراکسی جنگ کے وسیع علاقائی بحران میں بدلنے کا خدشہ
علاقائی سفارت کار کے مطابق اسلام آباد حوثیوں کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ صورتحال اس مقام تک نہ پہنچے جہاں سعودی عرب پاکستان سے دفاع کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرے۔
سفارت کار نے کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ موجود ہے، تاہم وہ امید کرتے ہیں کہ صورتحال اس حد تک نہیں پہنچے گی کہ پاکستان کو عملی طور پر مداخلت کرنا پڑے۔
ان کے مطابق پاکستان فی الحال سفارتی حل کی کوشش کرے گا۔
سعودی عرب کے دفاع میں پاکستانی حمایت
ایک پاکستانی ذریعے کے مطابق سعودی حکام نے ریاض میں پاکستانی اور ترک فوجی نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں تاکہ مشترکہ ردعمل کے حوالے سے رابطہ کاری کی جا سکے۔
ذریعے کے مطابق تینوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ ان کے فوجی یمن میں داخل نہیں ہوں گے اور کسی بھی جوابی کارروائی کے لیے سعودی سرزمین استعمال کی جائے گی۔
ایک دوسرے پاکستانی ذریعے نے کہا کہ جوابی حملوں میں شامل ہونے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا فوجی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور سعودی سرزمین کے تحفظ تک محدود ہے۔
ان کے مطابق پاکستانی فوج سعودی عرب کے اندر فوجی، تکنیکی، زمینی یا فضائی معاونت فراہم کر سکتی ہے، تاہم غیر ملکی سرزمین پر جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لے گی۔
ایران کے دباؤ کا الٹا اثر بھی ہو سکتا ہے
علاقائی سفارت کار کے مطابق ایران اور حوثیوں کی جانب سے خلیجی ممالک کی سکیورٹی کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی کا الٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔
تہران امریکا پر دباؤ ڈالنے کے لیے خلیجی خطے کی سلامتی کو نشانہ بنا رہا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں سعودی عرب، پاکستان، ترکی اور دیگر امریکی اتحادی ممالک ایک دوسرے کے مزید قریب آ سکتے ہیں۔
اس طرح امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے بجائے ان ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔
ایران پر امریکی معاشی دباؤ جاری رہنے کا امکان
علاقائی حکام کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے ایران پر دباؤ کم کرنے کے فی الحال بہت کم آثار ہیں۔
ایک سفارت کار کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت تک ایران پر امریکی ناکہ بندی برقرار رکھنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں جب تک تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی معاہدے پر نہیں پہنچتا۔
دوسری جانب قطر خاموشی سے ایسی نئی تجاویز پر کام کر رہا ہے جن کے ذریعے امریکا اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
ایک علاقائی ذریعے کے مطابق سعودی عرب کا ممکنہ فوجی ردعمل ایران کے بجائے حوثیوں پر مرکوز رہے گا۔
سعودی حکام یہ بھی نہیں سمجھتے کہ حوثیوں کے حملوں سے ایران اپنے بڑے مقصد، یعنی امریکی ناکہ بندی ختم کروانے، میں کامیاب ہو جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ریاض کی جانب سے واشنگٹن پر ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا بھی امکان نہیں۔
ایک علاقائی ذریعے نے کہا کہ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ معاشی دباؤ مذاکرات کی طرف جانے کا زیادہ مؤثر راستہ ہے۔
ذریعے کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ ایران کتنے معاشی دباؤ کو اور کتنے عرصے تک برداشت کر سکتا ہے۔
ان کے بقول ٹرمپ فوجی حل نہیں چاہتے بلکہ ناکہ بندی کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔







