ذرائع کے مطابق یمن کے مختلف علاقوں میں گزشتہ چند روز کے دوران حوثیوں اور یمنی حکومتی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ پانچ روز کے دوران ہونے والی لڑائی میں 276 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جب کہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حوثیوں کی جانب سے المخا پر قبضے کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں لڑائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ المخا بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ایک اہم بندرگاہی شہر ہے اور باب المندب کے قریب ہونے کی وجہ سے اسے عسکری اور تجارتی اعتبار سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

باب المندب آبنائے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی تجارت کے ساتھ ساتھ تیل اور دیگر توانائی کے وسائل کی ترسیل بھی ہوتی ہے۔ یمن میں لڑائی کے مزید پھیلنے کی صورت میں اس اہم بحری راستے کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی بھی برقرار ہے۔ حوثی باغی ماضی میں سعودی عرب کے مختلف علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کرتے رہے ہیں۔ جازان، ابہا اور خمیس مشیط سمیت سعودی علاقوں کو بھی حوثیوں کے حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

حوثیوں کے حملوں کے جواب میں سعودی عرب نے بھی یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ حالیہ کشیدگی میں سعودی فضائی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے باعث خطے میں ایک مرتبہ پھر وسیع فوجی تصادم کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

یمن کے ساحلی علاقوں میں سرگرم یمنی حکومتی فورسز اور مقامی مسلح گروہوں کو بھی حوثیوں کی پیش قدمی کا سامنا ہے۔ تعز اور حدیدہ سمیت مختلف علاقوں میں صورتحال کشیدہ ہے، جبکہ فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

یمن کی جنگ میں مختلف مقامی اور علاقائی قوتوں کی شمولیت نے تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک طرف حوثی باغی ملک کے بڑے حصے پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھے ہوئے ہیں تو دوسری جانب یمنی حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز مختلف علاقوں میں حوثیوں کے خلاف مزاحمت کر رہی ہیں۔

جنرل طارق صالح سے وابستہ فورسز بھی یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں حوثیوں کے خلاف سرگرم رہی ہیں۔ المخا اور اس کے گردونواح کا علاقہ اسی وجہ سے طویل عرصے سے یمن کی جنگ کا ایک اہم محاذ سمجھا جاتا ہے۔

علاقائی سطح پر ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی بھی یمن کے بحران کو متاثر کرتی رہی ہے۔ حوثیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہونے کے الزامات لگائے جاتے ہیں، جبکہ ایران ان الزامات اور حوثیوں پر براہ راست کنٹرول کے دعووں کی تردید کرتا رہا ہے۔

یمن کی موجودہ صورتحال کے اثرات صرف ملک تک محدود رہنے کا خدشہ نہیں بلکہ بحیرۂ احمر، باب المندب اور دیگر اہم بحری راستوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ماضی میں بحیرۂ احمر میں حملوں اور بحری جہازوں کو درپیش خطرات کے باعث کئی عالمی شپنگ کمپنیوں نے اپنے بحری راستے تبدیل کیے، جس سے سفر کے دورانیے اور اخراجات میں اضافہ ہوا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یمن میں لڑائی مزید شدت اختیار کرتی ہے اور باب المندب کے قریب بحری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں تو عالمی تجارت کے ساتھ ساتھ توانائی کی عالمی منڈی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ پہلے ہی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث موجود ہے اور کسی بڑے تصادم کی صورت میں قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

علاقائی صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز سمیت مشرق وسطیٰ کے دیگر اہم بحری راستوں کی سلامتی پر بھی توجہ بڑھ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور مشرق وسطیٰ میں کسی بڑے علاقائی تنازع کے اثرات اس راستے تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

امریکا سمیت مغربی ممالک بھی مشرق وسطیٰ میں بحری تجارت اور اہم سمندری راستوں کی حفاظت کو اہم قرار دیتے رہے ہیں۔ یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی طاقتوں کی توجہ ایک مرتبہ پھر بحیرۂ احمر اور باب المندب پر مرکوز ہوگئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری لڑائی کا سیاسی اور عسکری حل تلاش نہ کیا گیا تو صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔ حوثیوں کی پیش قدمی، حکومتی فورسز کی مزاحمت اور سعودی عرب سمیت علاقائی ممالک کی ممکنہ کارروائیوں کے نتیجے میں تنازع کے مزید پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔

یمن میں تازہ لڑائی نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کردیا ہے کہ ملک کا بحران صرف داخلی تنازع نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ، عالمی بحری تجارت اور تیل کی عالمی منڈی پر پڑ سکتے ہیں۔