عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق الجزائر کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ الجزائر نے یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات برقرار رکھنے کے تمام ذرائع ختم ہوجانے کے بعد کیا، تاہم سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی فوری طور پر کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے الجزائر کے اس فیصلے پر تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

الجزائری میڈیا ماضی میں بھی متحدہ عرب امارات پر سخت تنقید کرتا رہا ہے اور اس پر خطے میں اختلافات اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ الجزائر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی گزشتہ کچھ عرصے سے بڑھ رہی تھی۔ گزشتہ برس الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون نے خلیجی ممالک کے ساتھ الجزائر کے تعلقات کو مجموعی طور پر گرمجوش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب، کویت، عمان اور قطر کے ساتھ الجزائر کے تعلقات برادرانہ ہیں۔

تاہم صدر عبدالمجید تبون نے ایک خلیجی ملک پر الجزائر کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کیا تھا۔ اگرچہ انہوں نے اس ملک کا نام نہیں لیا تھا، تاہم ان کے بیان کو متحدہ عرب امارات کی جانب اشارہ سمجھا گیا۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی رواں سال فروری میں اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب الجزائر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ 2013 میں ابوظہبی میں طے پانے والے فضائی سروسز معاہدے کو منسوخ کرنے کا عمل شروع کیا۔

اب الجزائر کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔