اماراتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارتی اور مالی سرگرمیاں روکنے کا فیصلہ خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے، جس کے باعث متحدہ عرب امارات نے اپنے معاشی اور مالی معاملات سے متعلق اہم فیصلہ کیا ہے۔
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں خطے کے ممالک کو ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو کشیدگی میں اضافے کو روکنے اور امن و سلامتی کے قیام میں مددگار ثابت ہوں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحدہ عرب امارات نے ایران کی جانب سے مبینہ طور پر داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کی اطلاع دی تھی۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے منگل کو اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایران کی جانب سے یو اے ای کی سمت 2 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔
اماراتی وزارت دفاع کے مطابق ان میں سے ایک میزائل متحدہ عرب امارات کی سمندری حدود کے اندر گرا، جبکہ دوسرا میزائل سمندری حدود سے باہر جا کر گرا۔
وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ملک کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارتی اور مالی معاملات معطل کرنے کا اعلان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات گزشتہ برسوں کے دوران کئی اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ اگرچہ مختلف مواقع پر سفارتی رابطوں اور تعلقات میں بہتری کی کوششیں بھی سامنے آتی رہی ہیں، تاہم خطے میں عسکری کشیدگی میں اضافے کے باعث ان تعلقات پر ایک مرتبہ پھر دباؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
یو اے ای کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں خطے میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ایسے اقدامات ضروری ہیں جو علاقائی اور بین الاقوامی امن کو تحفظ فراہم کرسکیں۔
ایران کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے تجارتی تعلقات خطے کی معیشت میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں کاروباری روابط، درآمدات و برآمدات اور مالی معاملات ہوتے رہے ہیں۔
ایسے میں تمام تجارتی، کاروباری اور مالی معاملات کی تاحکمِ ثانی معطلی کا فیصلہ دونوں ملکوں کے درمیان معاشی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
تاہم اماراتی وزارت خارجہ کے بیان میں اس اقدام کی مدت کے حوالے سے کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا گیا اور اسے ’’تاحکمِ ثانی‘‘ قرار دیا گیا ہے، موجودہ صورتحال اور سیکیورٹی حالات کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ اس فیصلے میں تبدیلی کی جاسکتی ہے
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ ملک کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے
میزائلوں سے متعلق بیان میں اماراتی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ ملک کی دفاعی صلاحیتیں کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے الرٹ ہیں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
تازہ صورتحال میں تجارتی اور مالی سرگرمیوں کی معطلی کے فیصلے کو بھی یو اے ای کی جانب سے خطے میں پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
متحدہ عرب امارات نے خطے میں امن و سلامتی کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ کشیدہ صورتحال علاقائی حدود سے آگے بڑھ کر بین الاقوامی امن و استحکام کو بھی متاثر کرسکتی ہے
ایران کے ساتھ تمام تجارتی، کاروباری اور مالی معاملات کی معطلی کا اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر عالمی سطح پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
اب آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ خطے میں کشیدگی کس سمت جاتی ہے، آیا سفارتی کوششوں کے ذریعے صورتحال میں بہتری آتی ہے یا دونوں جانب سے مزید اقدامات کیے جاتے ہیں
فی الحال متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تجارتی و مالی معاملات تاحکمِ ثانی روکنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی قومی سلامتی اور خطے کے امن کو ترجیح دینے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔







