باقر قالیباف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تعلقات محض دو ہمسایہ ممالک کے سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان گہرے تاریخی، مذہبی اور سماجی روابط موجود ہیں
ایرانی اسپیکر کے مطابق ایران اور عراق کی ہمسائیگی کا رشتہ بھائی چارے، بیرونی مداخلتوں کے خلاف مزاحمت اور مشترکہ مستقبل پر یقین جیسے اصولوں پر استوار ہے
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود دیرینہ تعلقات خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے باوجود اپنی اہمیت برقرار رکھیں گے اور کسی بیرونی دباؤ کے ذریعے ایرانی اور عراقی عوام کو ایک دوسرے سے دور نہیں کیا جا سکتا
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ آج عراق کا دورہ کریں گے
ایرانی حکام کے مطابق دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات، خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے
قالیباف کے دورہ عراق کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی اور سیاسی صورتحال مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے
ایران اور عراق خطے کے اہم ہمسایہ ممالک ہیں اور دونوں کے درمیان تجارت، توانائی، سرحدی روابط اور عوامی سطح پر آمدورفت سمیت مختلف شعبوں میں قریبی تعلقات موجود ہیں
اس سے قبل محمد باقر قالیباف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ فوجی ایکشن کے ذریعے سفارت کاری کو مکمل کیا جائے اور وعدوں کی خلاف ورزیوں کا عملی جواب دیا جائے
ایرانی اسپیکر نے یہ بیان امریکی حکام کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات کے ردعمل میں دیا تھا
قالیباف نے خبردار کیا تھا کہ ایران پر دباؤ بڑھانے سے امریکا وہ رعایتیں حاصل نہیں کرسکتا جو کبھی ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کا حصہ ہی نہیں تھیں
انہوں نے کہا تھا کہ ایران پر دباؤ ڈال کر مذاکرات کی میز پر ایسی شرائط منوانے کی کوشش قابل قبول نہیں ہوگی جن پر پہلے اتفاق ہی نہیں ہوا
باقر قالیباف کا بیان امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیانات کے ردعمل میں سامنے آیا تھا
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکی مؤقف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایران دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے اپنے فیصلوں میں تبدیلی نہیں کرے گا
ایرانی مؤقف کے مطابق کسی بھی مذاکراتی عمل میں دونوں فریقوں کے درمیان طے شدہ نکات اور باہمی مفاہمت کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے
ایران اور عراق کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط تعلقات میں مختلف ادوار آئے ہیں، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان عوامی اور معاشی روابط برقرار رہے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان طویل سرحد موجود ہے اور باہمی تجارت کے علاوہ مذہبی و ثقافتی روابط بھی نمایاں ہیں۔ ایران اور عراق کے شہریوں کی ایک دوسرے کے ملک میں آمدورفت بھی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں اہم حیثیت رکھتی ہے۔
ایرانی قیادت متعدد مواقع پر ایران اور عراق کے تعلقات کو خطے میں باہمی تعاون اور استحکام کے لیے اہم قرار دیتی رہی ہے۔
قالیباف کا تازہ بیان بھی اسی تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان موجود تاریخی تعلق کو کسی بھی بیرونی دباؤ سے بالاتر قرار دیا ہے
باقر قالیباف کے دورہ عراق کے دوران ایران اور عراق کے باہمی تعلقات کے علاوہ خطے کی موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے دورے کو دوطرفہ روابط مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
قالیباف نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعاون کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اور عراق کے عوام کے درمیان قائم تاریخی رشتہ محض موجودہ سیاسی حالات کا تابع نہیں بلکہ یہ تعلق گہری عوامی وابستگی اور مشترکہ تاریخ پر قائم ہے، جسے کسی بھی بیرونی مداخلت یا دباؤ کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔







