ویتنام کی وزارت تعمیرات نے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور قومی فضائی کمپنی ویتنام ایئرلائنز کو جرمن حکام کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایت کرتے ہوئے واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات میں فعال شرکت کا حکم دیا ہے۔
وزارت نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو جرمن حکام کے ساتھ براہ راست اور باضابطہ رابطے کا چینل قائم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، جب کہ تحقیقات میں بین الاقوامی ہوا بازی کے قوانین اور معاہدوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق واقعہ 15 اگست کو ویتنام ایئرلائنز کی پرواز وی این-34 کے ساتھ پیش آیا، جو جرمنی کے میونخ ایئرپورٹ سے ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی کے لیے روانہ ہوئی تھی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق بوئنگ 787-9 طیارے نے ٹیک آف کے کچھ ہی دیر بعد تکنیکی وارننگز جاری کیں، جن میں ممکنہ ٹیل اسٹرائیک اور ٹائروں کے غیر معمولی پریشر کی نشاندہی کی گئی۔
صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پائلٹس نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو اطلاع دی اور مسافروں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے طیارے کو واپس میونخ ایئرپورٹ لے جانے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق طیارے نے تقریباً دو گھنٹے تک میونخ کے علاقے میں چکر لگائے تاکہ ایندھن کم کرکے طیارے کا وزن کم کیا جاسکے، جس کے بعد اسے بحفاظت ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔
طیارے میں 271 مسافر اور 16 عملے کے ارکان سوار تھے اور واقعے میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ویتنام کی وزارت تعمیرات نے ویتنام ایئرلائنز کو جرمن حکام، طیارے اور انجن بنانے والی کمپنیوں سمیت تحقیقات سے متعلق تمام اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈیا میں پائلٹس بوئنگ 787 طیاروں کو گراؤنڈ کرنے کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں؟
وزارت نے ایوی ایشن سیفٹی سے متعلق عملے کی تربیت، طیاروں کی دیکھ بھال اور آپریشنز کی نگرانی مزید سخت کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
حکام نے غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے سے متعلق درست اور غیر جانب دار معلومات فراہم کی جائیں تاکہ مسافروں اور عوام میں بے چینی پیدا نہ ہو۔
ویتنامی حکام کے مطابق جرمن تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اس کے نتائج اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے وزارت کو آگاہ کیا جائے گا۔







