نو اکتوبر کو ویانا سے دہلی جانے والی پرواز اے آئی 154 کو الیکٹرانک نظام میں مختلف خرابیوں کے باعث دبئی موڑ دیا گیا تھا، جبکہ چار اکتوبر کو برمنگھم میں لینڈنگ کے دوران پرواز اے آئی 117 میں خرابی پیش آئی تھی، جس میں رِیم ایئر ٹربائن (RAT) کا استعمال کیا گیا۔

رِیم ایئر ٹربائن ایک چھوٹا بیک اپ سسٹم ہے جو جہاز کے بنیادی نظام میں خرابی کی صورت میں پاور سپلائی فراہم کرتا ہے۔

پائلٹس نے ان واقعات کو ایئر انڈیا کی ناقص انجینئرنگ اور کمزور دیکھ بھال کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان مسائل کی وجہ وہ نئے بھرتی کیے گئے انجینئرز ہیں جنہیں سرکاری ادارے "ایئر انڈیا انجینئرنگ سروسز لمیٹڈ (AIESL)" کے تجربہ کار انجینئرز کی جگہ تعینات کیا گیا۔

تاہم ایئر انڈیا نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

ایئر لائن کے ترجمان کے مطابق اے آئی 117 میں کوئی الیکٹریکل خرابی نہیں ہوئی جبکہ اے آئی 154 میں رِیم ایئر ٹربائن کا استعمال کسی تکنیکی ناکامی کے باعث نہیں تھا اور نہ ہی پائلٹ کا اس میں کوئی کردار تھا۔

ایئر انڈیا نے وضاحت دی کہ ویانا سے دہلی آنے والی پرواز میں معمولی تکنیکی مسئلے کے باعث جہاز کا رخ تبدیل کیا گیا اور وہ بحفاظت دبئی میں اترا۔ مسافروں کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا، انہیں ریفریشمنٹ فراہم کی گئی اور بعد میں وہی طیارہ انہیں دہلی لے کر گیا۔

ترجمان نے کہا کہ "ایئر انڈیا کے لیے مسافروں اور عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔"


برمنگھم لینڈنگ سے متعلق وضاحت میں ایئر لائن کا کہنا تھا کہ طیارہ محفوظ انداز میں اترا، اگرچہ RAT نے آخری لمحے میں خودکار طور پر کام کیا۔ لینڈنگ کے دوران تمام الیکٹریکل اور ہائیڈرالک نظام نارمل حالت میں تھے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق RAT کا استعمال بغیر کسی پائلٹ کمانڈ کے ہوا، جو کہ بوئنگ کی رپورٹ کے مطابق دیگر ایئرلائنز میں بھی کبھی کبھار پیش آتا ہے۔

ایئر انڈیا نے بتایا کہ معاملے کی اطلاع ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن کو دے دی گئی ہے، ابتدائی رپورٹ جمع کرا دی گئی ہے اور متعلقہ طیارے کو دوبارہ پرواز کے لیے کلیئرنس دے دی گئی ہے۔

ایئرلائن کا یہ بیان انڈین پائلٹس فیڈریشن کے اُس خط کے بعد سامنے آیا جس میں تنظیم نے 12 جون کے اُس حادثے کا حوالہ دیا تھا جب احمد آباد سے ٹیک آف کرنے والی ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی 171 تباہ ہو گئی تھی اور 260 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پائلٹس نے اپنے خط میں کہا کہ "بی 787 طیاروں میں خرابیوں کی وجوہات کی تحقیقات نہ کرنے سے انڈیا میں فضائی سفر کی حفاظت سنگین خطرے سے دوچار ہو گئی ہے۔"