پاکستان کے خلاف ایجبسٹن ٹیسٹ میں جو روٹ نے 62 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، جو ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی 69ویں نصف سنچری تھی۔

اس نصف سنچری کے ساتھ ہی جو روٹ سچن ٹنڈولکر کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ نصف سنچریاں بنانے والے بلے باز بن گئے۔ جو روٹ نے یہ کارنامہ 309 اننگز میں انجام دیا، جبکہ سچن ٹنڈولکر نے 329 اننگز میں 68 نصف سنچریاں بنائی تھیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ نصف سنچریاں بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں ویسٹ انڈیز کے شیونارائن چندرپال 66 نصف سنچریوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں، جبکہ سابق آسٹریلوی کپتان ایلن بارڈر اور بھارت کے راہول ڈریوڈ 63، 63 نصف سنچریوں کے ساتھ مشترکہ طور پر چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔

سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ 62 نصف سنچریوں کے ساتھ اس فہرست میں پانچویں نمبر پر ہیں۔

خیال رہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا ریکارڈ بھی سچن ٹنڈولکر کے پاس ہے، جنہوں نے 51 سنچریاں اسکور کیں۔ جنوبی افریقا کے جیک کیلس 45 سنچریوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، جبکہ جو روٹ اور رکی پونٹنگ 41، 41 سنچریوں کے ساتھ مشترکہ طور پر تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سچن ٹنڈولکر کے ایک اور بڑے ریکارڈ کے بھی قریب پہنچ چکے ہیں۔ سچن ٹنڈولکر نے ٹیسٹ کرکٹ میں 15 ہزار 921 رنز بنائے ہیں، جبکہ 35 سالہ جو روٹ 14 ہزار 278 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔

جو روٹ کے علاوہ کوئی اور فعال کرکٹر ٹنڈولکر کے ٹیسٹ رنز کے ریکارڈ کے اتنا قریب نہیں۔ رکی پونٹنگ 13 ہزار 378 رنز کے ساتھ مجموعی طور پر تیسرے نمبر پر ہیں، جبکہ موجودہ دور میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے آسٹریلیا کے 37 سالہ اسٹیو اسمتھ نے 10 ہزار 920 رنز بنائے ہیں اور وہ ٹنڈولکر کے ریکارڈ سے کافی دور ہیں۔