عمان میں ہونے والے اجلاس میں یروشلم کی موجودہ صورتحال، شہر کی شناخت اور مسجد اقصیٰ کی حیثیت کو متاثر کرنے والے اسرائیلی اقدامات کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر جاری 14 نکاتی مشترکہ اعلامیے میں مقبوضہ القدس کی عرب، اسلامی اور مسیحی شناخت، قانونی حیثیت اور آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے کے لیے اسرائیلی پالیسیوں اور اقدامات کی مذمت کی گئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ مشرقی القدس مقبوضہ فلسطینی سرزمین کا حصہ ہے اور اس پر اسرائیل کی کسی بھی قسم کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ شرکا نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ مشرقی القدس 4 جون 1967 کی سرحدوں پر قائم آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہے، جبکہ فلسطین کے دو ریاستی حل اور نیویارک اعلامیے کی حمایت بھی دہرائی گئی۔

وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیوں، اس کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں، آبادکاروں اور انتہا پسند اسرائیلی وزرا کے بڑھتے ہوئے دوروں، نمازیوں کی آمد پر پابندیوں، اوقاف القدس کی انتظامیہ کی راہ میں رکاوٹوں اور مسجد اقصیٰ کے اطراف و نیچے ہونے والی غیرقانونی کھدائیوں کی مذمت کی۔

مشترکہ اعلامیے میں زور دیا گیا کہ 144 دونم پر مشتمل مسجد اقصیٰ کا پورا احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف کے ماتحت اوقاف القدس ہی اس کے انتظام اور وہاں داخلے کو منظم کرنے کی واحد قانونی اتھارٹی ہے۔

اجلاس میں القدس میں اسلامی اور مسیحی مقدسات پر اردن کی تاریخی سرپرستی کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اسے مقدسات کے تحفظ اور شہر کی تاریخی و قانونی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ القدس میں اسلامی مقدسات کے خلاف اسرائیلی اقدامات دنیا بھر کے تقریباً دو ارب مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کر سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں مذہبی تصادم پیدا ہونے کا خطرہ ہے، جس کے اثرات خطے سے بڑھ کر عالمی امن و سلامتی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

شرکا نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ القدس اور مقدس مقامات میں اسرائیل کے تمام غیرقانونی اقدامات فوری طور پر روکنے کے لیے مؤثر کارروائی کی جائے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ ستمبر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح اجلاس کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب لیگ کا مشترکہ وزارتی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب بیت المقدس میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کی سرپرستی اور شہر کی تاریخی شناخت کے تحفظ میں اردن کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب القدس کی قانونی، تاریخی اور مذہبی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتا ہے اور مذہبی آزادی کے بیانیے کو شہر میں نئی سیاسی حقیقتیں مسلط کرنے کے جواز کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جامع امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی شدید مذمت بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ القدس دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں کے لیے عقیدت کا مرکز ہے اور اسے امن اور بقائے باہمی کا شہر ہونا چاہیے۔