امریکی بحریہ کے ساتویں بیڑے کے ترجمان کمانڈر میتھیو کومر کے مطابق یہ واقعہ 24 جولائی کو پیش آیا، جب ارلی برک کلاس گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس بین فولڈ، جارج واشنگٹن کیریئر اسٹرائیک گروپ کے ساتھ بحیرہ جنوبی چین میں موجود تھا۔
ترجمان کے مطابق جہاز کے جنریٹرز میں پیدا ہونے والی انجینئرنگ خرابی کے نتیجے میں پورے جہاز کی بجلی بند ہوگئی۔ بجلی کی بندش کے دوران عملے کو بنیادی سہولیات کی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم کسی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
کمانڈر میتھیو کومر نے عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اہلکاروں نے مشکل صورتحال میں پیشہ ورانہ رویے، حوصلے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
یو ایس ایس بین فولڈ تقریباً 30 سال پرانا جنگی جہاز ہے۔ بجلی کی خرابی کے بعد اسے نجی کمپنیوں کی ٹگ بوٹس کے ذریعے فلپائن کے سبیک بے پہنچایا گیا، جہاں یہ 28 جولائی کو لنگر انداز ہوا۔
امریکی بحریہ کے ماہرین نے وہاں جہاز کی مرمت شروع کی، جبکہ 29 جولائی سے متاثرہ اہلکاروں کو کھانا فراہم کیا گیا اور انہیں ساحل پر کرائے کی رہائش گاہوں میں منتقل کردیا گیا۔
بحریہ کے مطابق جہاز کی بجلی 30 جولائی کو بحال کردی گئی، جبکہ مرمت کا کام 7 اگست کو مکمل ہوا۔ بین فولڈ 8 اگست کو سبیک بے سے روانہ ہوگیا۔
یہ واضح نہیں کہ امریکی بحریہ نے بجلی کی اس سنگین خرابی کی اطلاع واقعے کے وقت عوام کو کیوں نہیں دی۔ امریکی میڈیا ادارے اے بی سی نیوز نے واقعے کی مزید تفصیلات کے لیے بحریہ سے رابطہ بھی کیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی بحریہ کو مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کا سامنا ہے۔ جارج واشنگٹن کیریئر اسٹرائیک گروپ کو مشرق وسطیٰ میں یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ تعینات کیا جانا ہے، جو ایران جنگ کے باعث طویل عرصے سے خطے میں موجود ہے۔
ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ سبیک بے سے روانگی کے بعد یو ایس ایس بین فولڈ جاپان میں اپنے ہوم پورٹ واپس گیا یا جارج واشنگٹن کیریئر اسٹرائیک گروپ کے ساتھ ہی سفر جاری رکھا۔







