میڈیا رپورٹ کے مطابق دھماکا "ہواشینگ فائر ورکس پلانٹ" میں پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 4 بج کر 40 منٹ پر پیش آیا۔ دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور قریبی آبادی میں واقع گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ دروازے اور کھڑکیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔

واقعے کے فوراً بعد ریسکیو ادارے حرکت میں آ گئے اور فیکٹری کے اطراف تقریباً 3 کلومیٹر کے علاقے کو خالی کرا لیا گیا تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے، تقریباً 500 سے زائد امدادی اہلکاروں کو جائے وقوعہ پر تعینات کیا گیا، جبکہ ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بشمول روبوٹک آلات، کا بھی استعمال کیا گیا۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیوں کے دوران فیکٹری میں موجود بارودی مواد کے دو بڑے گودام مسلسل خطرے کا باعث بنے رہے، جس کے پیش نظر انتہائی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں، علاقے کو پانی کے ذریعے نم رکھا تاکہ کسی ممکنہ ثانوی دھماکے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ کئی افراد کو ہڈیوں کے فریکچر اور دیگر شدید چوٹیں آئی ہیں۔ زخمیوں کی عمریں 20 سے 60 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔

واقعے کے بعد پولیس نے فوری تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور فیکٹری کے ذمہ دار فرد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر دھماکے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ حادثہ فیکٹری میں موجود آتش گیر مواد کے باعث پیش آیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے لاپتا افراد کی تلاش تیز کرنے اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے اس سانحے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ لیویانگ شہر دنیا بھر میں آتش بازی کی مصنوعات کی تیاری کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے، تاہم اس صنعت سے وابستہ فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات کی کمی کے باعث ماضی میں بھی ایسے حادثات رونما ہوتے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک بار پھر صنعتی حفاظتی معیارات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔