غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین نے آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی تیل بحران کے بعد مارچ میں اپنی ایندھن کی برآمدات محدود کردی تھیں۔ اس اقدام کا مقصد اندرون ملک ایندھن کی دستیابی برقرار رکھنا اور مقامی مارکیٹ پر ممکنہ دباؤ کو کم کرنا تھا۔
تاہم بیجنگ نے جولائی میں برآمدی پالیسی میں نرمی کرتے ہوئے چینی ریفائنریوں کو زیادہ مقدار میں پٹرولیم مصنوعات بیرون ملک بھیجنے کی اجازت دے دی، جبکہ اگست میں بھی اضافی برآمدات کے لیے کوٹے منظور کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نئے منظور شدہ برآمدی کوٹے کے باعث چین کی ریفائنڈ ایندھن کی بیرون ملک ترسیل ایران جنگ سے قبل کی سطح تک پہنچنے بلکہ بعض صورتوں میں اس سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں چین کی ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کی مجموعی برآمدات 46 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن رہیں، جو جون میں 43 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن تھیں۔ اس طرح ماہانہ بنیاد پر برآمدات میں 6.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم گزشتہ سال جولائی کے مقابلے میں مجموعی برآمدات 12.9 فیصد کم رہیں۔
چین کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ جولائی میں ڈیزل کی برآمدات ماہانہ بنیاد پر 88 فیصد بڑھ کر 8 لاکھ 10 ہزار ٹن تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کی اوسط ماہانہ برآمدات کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہیں۔
اسی طرح پٹرول کی برآمدات میں بھی بڑی ماہانہ چھلانگ دیکھی گئی۔ جولائی میں چین نے تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار ٹن پٹرول برآمد کیا، جو جون کے مقابلے میں 320 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم سالانہ بنیاد پر پٹرول کی برآمدات اب بھی 55.3 فیصد کم رہیں۔
ایوی ایشن فیول کی برآمدات بھی جولائی میں جون کے مقابلے میں 42 فیصد اضافے کے ساتھ 13 لاکھ 20 ہزار ٹن ہوگئیں، تاہم گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں یہ مقدار 33 فیصد کم رہی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی جانب سے ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات بڑھانے سے ان عالمی منڈیوں کو کسی حد تک ریلیف مل سکتا ہے جہاں ایندھن کی سپلائی محدود ہے۔ عالمی مارکیٹ میں نسبتاً بہتر قیمتیں چینی ریفائنریوں کو پیداوار بڑھانے پر بھی آمادہ کرسکتی ہیں۔
یاد رہے کہ اگر چینی ریفائنریاں برآمدی طلب پوری کرنے کے لیے اپنی پیداوار میں اضافہ کرتی ہیں تو مستقبل میں چین کی خام تیل کی درآمدات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے عالمی آئل مارکیٹ میں طلب اور رسد کے توازن پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب چین کی ایل این جی درآمدات میں بھی جولائی کے دوران معمولی اضافہ ہوا۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں چین نے 55 لاکھ ٹن ایل این جی درآمد کی، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 2.4 فیصد زیادہ ہے۔
تاہم رواں سال کے ابتدائی سات ماہ کے دوران چین کی مجموعی ایل این جی درآمدات گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 4.6 فیصد کم رہیں۔
چین کی جانب سے ایندھن کی برآمدات میں نرمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی توانائی مارکیٹ پہلے ہی سپلائی میں رکاوٹوں، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور اہم بحری راستوں کی صورتحال کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔ ایسے میں چینی پٹرولیم مصنوعات کی اضافی سپلائی عالمی مارکیٹ میں قیمتوں اور دستیابی کے حوالے سے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔







